ٹیکس چوری پر ایف بی آر کا ایکشن، کریسنٹ مارکیٹ میں معروف دکان سیل
چیف ایڈیٹر: محمد اشرف بٹ
ٹیکس چوری پر ایف بی آر کا ایکشن، کریسنٹ مارکیٹ میں معروف دکان سیل
روزنامہ قومی کردار کی جانب سے پوری قوم کو یومِ آزادی کے پرمسرت موقع پر دلی مبارکباد 🇵🇰✨
روزنامہ قومی کردار لاہور کے تازہ شمارے میں معروف کالم نگار ماہ نور کنول کی انتہائی خاص اور فکر انگیز تحریر: "اس سے پہلے کہ تم ایک یاد بن جاؤ"۔ زندگی کی حقیقت اور وقت کی قدر پر مبنی ایک باوقار کالم، لازمی پڑھیے!
پنجاب سے غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ کا عالمی نیٹ ورک بے نقاب، 2 مرکزی ایجنٹ گرفتار
اسلام آباد (قومی کردار نیوز) ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ملک بھر میں غیر قانونی انسانی گردہ ٹرانسپلانٹ کرنے والے انتہائی منظم نیٹ ورک کے دو اہم اور مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے کی اس کارروائی کے بعد ہونے والی تحقیقات میں انتہائی لرزہ خیز اور ہولناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے مقدمہ نمبر 16/2026 کے تحت مطلوب مرکزی ایجنٹ شبیر حسین کو جلال پور بھٹیاں، ضلع حافظ آباد سے گرفتار کیا۔ جبکہ اس کے قریبی ساتھی اور مبینہ سب ایجنٹ غلام عباس کو چک نمبر L-326/15، تحصیل میاں چنوں، ضلع خانیوال سے حراست میں لیا گیا ہے۔غریب اور دیہاڑی دار طبقہ نشانہ:دونوں ملزمان پر الزام ہے کہ وہ مالی طور پر انتہائی کمزور، نادار اور مستحق افراد کو معمولی معاوضے کا لالچ دے کر غیر قانونی انسانی گردہ ٹرانسپلانٹ نیٹ ورک کے لیے ڈونرز کا انتظام کرتے تھے۔ ملزمان کا نشانہ خصوصاً بھٹہ مزدور، دیہاڑی دار، غریب خاندان اور دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے شہری ہوتے تھے، جنہیں معاشی تنگ دستی کا فائدہ اٹھا کر اعضاء کا عطیہ دینے پر آمادہ کیا جاتا تھا۔کروڑوں روپے کی وصولی اور غریبوں کا استحصال:تحقیقات کے دوران یہ چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی ہے کہ یہ منظم نیٹ ورک امیر مریضوں سے ہر گردہ ٹرانسپلانٹ کے عوض 60 لاکھ روپے سے لے کر بعض کیسز میں 1 کروڑ روپے تک کی خطیر رقم وصول کرتا تھا۔ اس کے برعکس، اپنی زندگی داؤ پر لگانے والے غریب ڈونر کو محض چند لاکھ روپے دیے جاتے تھے، جبکہ باقی بھاری رقم نیٹ ورک کے مختلف ارکان اور ایجنٹس میں تقسیم کر دی جاتی تھی۔187 غیر قانونی آپریشنز کا انکشاف:ابتدائی تفتیش کے مطابق، گرفتار مرکزی ایجنٹ شبیر حسین اپنے ماتحت سب ایجنٹس کے ذریعے پنجاب اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں سے اب تک 50 سے زائد غریب ڈونرز مبینہ طور پر ڈاکٹر نادر کو فراہم کر چکا تھا۔ واضح رہے کہ ایف آئی اے اس سے قبل اسی مقدمے میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر نادر اور ان کی ٹیم کو گرفتار کر چکی ہے۔ ایف آئی اے کی جاری تحقیقات کے مطابق اب تک حاصل ہونے والے شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر نادر مبینہ طور پر تقریباً 187 غیر قانونی انسانی گردہ ٹرانسپلانٹس میں ملوث رہا ہے، جس کے مختلف پہلوؤں پر مزید تفتیش تیزی سے جاری ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
عید الاضحیٰ پر ٹرانسپورٹ مافیا کے خلاف گھیرا تنگ! اوور چارجنگ پر سخت ترین کارروائی کا حکم۔
زائد کرایہ وصول کرنے والی بس کا روٹ پرمٹ اور متعلقہ لاری اڈے کا لائسنس فوری منسوخ کر دیا جائے گا۔ عوام کی سہولت کے لیے تمام گاڑیوں اور اڈوں پر سرکاری کرایہ نامہ نمایاں آویزاں کرنے کی سخت ہدایت جاری کر دی گئی۔
نئی گاڑیوں کے لیے نمبر پلیٹس دوبارہ سرکاری سطح پر جاری کرنے کا فیصلہ
نئی پلیٹس میں جدید ترین 'آر ایف آئی ڈی' (RFID) چپ نصب ہوگی، سکینر کے سامنے آتے ہی گاڑی اور مالک کا مکمل ریکارڈ سکرین پر آجائے گا۔
اپریل 2024 میں اوپن مارکیٹ سے پلیٹس بنوانے کی پالیسی تبدیل، اب نئی رجسٹرڈ گاڑیوں کو جدید سیکیورٹی فیچرز والی سرکاری پلیٹس ہی دی جائیں گی۔
لاہور (خصوصی رپورٹ): لاہور سمیت صوبہ بھر میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی فراہمی کا نظام ایک مرتبہ پھر مکمل طور پر سرکاری کنٹرول میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر نئی گاڑیوں کے لیے انتہائی جدید سیکیورٹی فیچرز سے آراستہ نمبر پلیٹس متعارف کروانے کی منظوری دے دی ہے۔تفصیلات کے مطابق، ان نئی نمبر پلیٹس کی سب سے نمایاں خصوصیت ان میں پوشیدہ 'آر ایف آئی ڈی' (RFID) چپ کی تنصیب ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے، جیسے ہی کوئی گاڑی کسی بھی سیکیورٹی سکینر کے قریب سے گزرے گی، گاڑی کی رجسٹریشن کی مکمل ہسٹری اور مالک کا تمام تر بائیو ڈیٹا فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مانیٹرنگ سسٹم پر ظاہر ہو جائے گا۔ اس اہم اقدام سے گاڑیوں کی چیکنگ، ٹریکنگ اور جرائم کی روک تھام میں دیگر محکموں کو بھی غیر معمولی مدد ملے گی۔یاد رہے کہ گزشتہ برس اپریل 2024 میں خام مال (میٹریل) کی عدم دستیابی اور قیمتوں میں اضافے کے باعث پرانا کنٹریکٹ منسوخ کر دیا گیا تھا، جس کے بعد شہریوں کو عام مارکیٹ سے نمبر پلیٹس تیار کروانے کی عارضی اجازت دے دی گئی تھی۔ تاہم، اب سیکیورٹی اور ڈیٹا کی حساسیت کو ترجیح دیتے ہوئے یہ پالیسی تبدیل کی جا رہی ہے۔حکام کا واضح کرنا ہے کہ جن شہریوں نے پہلے سے فیس جمع کروا رکھی ہے، انہیں ان کی متعلقہ پلیٹس فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ البتہ، آر ایف آئی ڈی چپ پر مبنی یہ نئی اور محفوظ ترین سمارٹ پلیٹس فی الحال صرف نئی رجسٹر ہونے والی گاڑیوں کو ہی جاری کی جائیں گی۔
آنر کلنگ کے انسداد کی ذمہ داری بھی سی سی ڈی کے سپرد کر دی گئی
ذیلی سرخی: وزیر اعلیٰ پنجاب کے احکامات پر کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے اختیارات میں توسیع، غیرت کے نام پر قتل کے تمام کیسز کی انکوائری اب یہی ادارہ کرے گا۔ حکومتِ پنجاب کا دو ٹوک اعلان: ایسے جرائم میں ملوث افراد سے کوئی رعایت نہیں ہوگی، ہر مقدمہ منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
لاہور (خصوصی رپورٹ): پنجاب حکومت نے غیرت کے نام پر قتل (آنر کلنگ) جیسے سنگین معاشرتی ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے 'زیرو ٹالرنس' پالیسی اپناتے ہوئے انتہائی سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایت پر صوبے بھر میں ایسے واقعات کی فوری روک تھام کے لیے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق، اب غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے تمام مقدمات کی باقاعدہ تفتیش سی سی ڈی کے حوالے کر دی گئی ہے۔ بہن، بیٹی، بیوی یا کسی بھی عورت کے خلاف اس نوعیت کے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرنے والے عناصر کے خلاف کڑی اور تیز ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ سی سی ڈی، جس کی بنیادی ذمہ داری اس سے قبل منظم جرائم کی سرکوبی تھی، اب ان حساس مقدمات کی بھی مکمل نگرانی کرے گا تاکہ انکوائری کے عمل کو سو فیصد شفاف اور تیز تر بنایا جا سکے۔حکومتِ پنجاب کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ آنر کلنگ میں ملوث کسی بھی ملزم کے ساتھ رتی برابر نرمی نہیں برتی جائے گی اور ہر کیس کو قانون کے مطابق اس کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔ سرکاری حلقوں نے اس حکومتی فیصلے کو خواتین کے تحفظ اور معاشرے سے جرائم کے خاتمے کے لیے ایک انتہائی اہم اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا ہے۔
جب مسیحا انسانیت کے سوداگر بن جائیں تو کیا ہوتا ہے؟
اپنے قلم کی طاقت سے معاشرے کا سویا ہوا ضمیر جھنجھوڑنے والی سینئر کالم نگار محترمہ سیدہ شبانہ رضوی صاحبہ کی ایک انتہائی جرات مندانہ اور چشم کشا تحریر روزنامہ قومی کردار کے آج کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں!!!
لاہور کے طبی ماہرین کا کارنامہ: جین ایڈیٹنگ کے ذریعے تھیلیسیمیا کے دائمی علاج میں بڑی کامیابی
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) کی ریسرچ میں نمایاں پیش رفت، مریضوں کے لیے بار بار انتقالِ خون (Blood Transfusion) کی زحمت کم ہونے کی امید۔
گاما گلوبن جین کو ٹارگٹ کرنے والے ماڈلز تیار، فیٹل ہیموگلوبن کو دوبارہ متحرک کر کے مرض کی شدت میں کمی لائی جا سکے گی، وائس چانسلر پروفیسر احسن وحید راٹھور۔
لاہور (نمائندہ خصوصی) کم سن بچوں کے لیے آئے روز خون لگوانے کی تکلیف دہ اذیت جلد ختم ہونے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (UHS) نے جین ایڈیٹنگ کے حیرت انگیز طریقہ کار کی مدد سے تھیلیسیمیا کے پائیدار علاج کی جانب قدم بڑھا دیا ہے۔ ڈاکٹر محمود صبا کی حالیہ ریسرچ نے طب کی دنیا میں امید کی نئی کرن پیدا کی ہے، جس میں خاص طور پر 'گاما گلوبن جین' پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔یو ایچ ایس کے محققین نے گاما گلوبن جین کو نشانہ بنانے کے لیے خصوصی اسٹرکچر وضع کر لیے ہیں۔ اس عمل کی بدولت فیٹل ہیموگلوبن کے دوبارہ فعال ہونے اور بیماری کے مہلک اثرات کم ہونے کی قوی توقع ہے۔ اس وقت جامعہ میں "ملٹی پلیکس پرائم ایڈیٹنگ" کے حوالے سے جدید ترین تحقیقات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد افراد 'تھیلیسیمیا میجر' کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ ملک کی 5 سے 7 فیصد آبادی اس مرض کے جینز (کیریئر) رکھتی ہے۔ عالمی سطح کی بات کی جائے تو دنیا بھر میں سالانہ 50 سے 60 ہزار کے قریب بچے اس مرض کے ساتھ جنم لیتے ہیں، جس سے اس ریسرچ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسن وحید راٹھور نے اس شاندار تحقیق کو ایک عظیم کامیابی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز طبی تحقیق کے فروغ اور صحت عامہ کی بہتری کے لیے اپنا بھرپور اور پرعزم کردار ادا کرتی رہے گی۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
67 سال پرانا غنڈہ ایکٹ منسوخ، عادی مجرمان اب 'اینٹی سوشل پرسن' کہلائیں گے، 20 لاکھ روپے تک جرمانے کی تجویز۔
ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹیوں کو وسیع اختیارات تفویض؛ مشتبہ افراد کے شناختی کارڈ بلاک اور بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جا سکیں گے۔
اسلحہ کی نمائش، قبضہ مافیا، سائبر کرائم اور ہراسانی بھی نئے قانون کی زد میں؛ بل جلد پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
لاہور (نیوز ڈیسک) سماج دشمن عناصر اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے صوبائی حکومت نے 67 سال پرانے 'غنڈہ ایکٹ 1959' کو متروک قرار دے کر ایک نیا اور سخت ترین قانون متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے اس نئے مسودہ قانون کے تحت غنڈہ گردی اور ہوائی فائرنگ جیسے جرائم پر اب 5 سے 7 سال تک کی قید بامشقت کی سزا دی جائے گی۔نئے قانونی ڈھانچے کے مطابق، عادی بدمعاشوں کو اب باقاعدہ طور پر 'اینٹی سوشل پرسن' (Anti-Social Person) کا قانونی درجہ دیا جائے گا۔ ایسے افراد کے لیے 7 سال کی لازمی قید اور 20 لاکھ روپے تک کے بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹیوں (DICs) کے اختیارات میں نمایاں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اب یہ کمیٹیاں کسی بھی شخص کو مشتبہ قرار دینے کی مجاز ہوں گی، جس کے فوری بعد ایسے افراد کے قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے جیسی سخت کارروائیاں عمل میں لائی جا سکیں گی۔ اس کے علاوہ، پولیس کو جدید خطوط پر الیکٹرانک نگرانی اور سرویلنس کے خصوصی اختیارات بھی سونپے جائیں گے۔یہ نیا قانون انتہائی جامع نوعیت کا ہے جس کے دائرہ کار میں ہوائی فائرنگ، اسلحہ کی غیر قانونی نمائش اور قبضہ مافیا کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ دورِ حاضر کے سنگین مسائل یعنی سائبر کرائم اور خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، جرائم کے قلع قمع کے لیے تیار کردہ اس اہم مجوزہ قانون کو منظوری کے لیے جلد ہی پنجاب اسمبلی کے ایوان میں پیش کر دیا جائے گا۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
ٹیکس چوری پکڑنے کے لیے اے آئی سسٹم تیار!
ٹیکس نفاذ کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال؛ اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے ریٹرنز کا خودکار تجزیہ کیا جائے گا اور مشکوک لین دین کی فوری نشاندہی ممکن ہو سکے گی۔
ورلڈ کلاس ٹیکنالوجی کی مدد سے انڈر رپورٹنگ اور محصولات ک ضیاع کا خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ انڈر انوائسنگ اور اسمگلنگ کے خلاف بھی گھیرا تنگ کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔
کنکشن کے حصول کے لیے لیسکو سے ابتدائی معاہدہ لازمی قرار، 5 سال تک بجلی پیدا کرنے کا حق دیا جائے گا منظور شدہ کمپنیوں کے توسط سے آن لائن درخواستوں کی وصولی کا آغاز، نیپرا سے لائسنس ملتے ہی ڈیجیٹل کارروائی مکمل ہوگی
لاہور (نمائندہ خصوصی): لیسکو انتظامیہ نے 'نیٹ میٹرنگ پالیسی' کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے سولر پینل استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی کے نئے کنکشنز کی فراہمی کا آغاز کر دیا ہے۔ متعارف کروائی گئی اس تازہ ترین پالیسی کے مطابق، اب گھریلو اور تجارتی سطح کے صارفین ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک پر 14 کلو واٹ تک کے سولر سسٹم بآسانی نصب کروا سکیں گے۔ تاہم، مقررہ 14 کلو واٹ کی حد سے تجاوز کرنے والے لوڈ کی صورت میں متعلقہ صارف اس بات کا قانونی پابند ہوگا کہ وہ اپنے خرچ پر ذاتی ٹرانسفارمر لگوائے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، نیا کنکشن حاصل کرنے والے افراد کو پہلے مرحلے میں لیسکو حکام کے ساتھ ایک باقاعدہ معاہدہ طے کرنا ہوگا جس کے بعد انہیں آئندہ پانچ برس تک بجلی کی پیداوار کی باضابطہ اجازت مل جائے گی۔ صارفین کی سہولت کے پیشِ نظر، منظور شدہ کمپنیوں کے ذریعے آن لائن درخواستیں جمع کروانے کے سلسلے کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ موصول ہونے والی ان درخواستوں پر کارروائی کرتے ہوئے لیسکو نے جنریشن لائسنس کے اجرا کے لیے انہیں نیپرا کو بھجوانا شروع کر دیا ہے۔ نیپرا کی جانب سے لائسنس جاری ہونے کے فوری بعد، کنکشن کی فراہمی کا بقیہ تمام تر مرحلہ آن لائن ہی پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
تین مرلے کے پلاٹ اور گھر کی تعمیر کے لیے قرض بھی ملے گا، 40 سال قبل محمد نواز شریف کا لگایا گیا پودا تناور درخت بن چکا ہے، مریم نواز وزیراعلیٰ کی زیرِ صدارت کمشنرز کا اہم اجلاس، نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز سے کھلے مین ہولز نہ ہونے کا ماہانہ بیان حلفی طلب کرنے کا حکم
لاہور (نمائندہ خصوصی): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے محنت کشوں کے لیے ایک بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے انہیں مفت فلیٹس کے الاٹمنٹ لیٹرز دے دیے ہیں۔ انہوں نے آئندہ تین برسوں کے دوران 5 ہزار سے زائد مزدوروں کو گھر فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔720 محنت کشوں کو مفت فلیٹس کی فراہمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ اپنی چھت اور اپنا ذاتی مقام اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، اب محنت کشوں کو مکان مالک کی فکر نہیں ستائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے مہنگائی کے دور میں غریب کے لیے گھر بنانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے، ایک فلیٹ کی تعمیر پر 35 لاکھ روپے لاگت آئی ہے لیکن یہ مزدوروں کو بالکل مفت فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان خوبصورت فلیٹس میں دو بیڈرومز، لاؤنج اور واش روم کی سہولیات موجود ہیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ 40 سال قبل محمد نواز شریف نے لیبر کے حوالے سے جو پودا لگایا تھا، وہ آج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آج 720 خاندانوں کو چھت مل رہی ہے جبکہ ٹیکسلا میں بھی 500 گھر مکمل ہو چکے ہیں۔ آئندہ مراحل میں محنت کشوں کو 3 مرلے کے پلاٹ اور گھر کی تعمیر کے لیے آسان شرائط پر قرضے بھی فراہم کیے جائیں گے۔کمشنرز اجلاس اور اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری: دریں اثنا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت کمشنرز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں 'جس کا ریونیو، اسی کی ترقی' کے وژن کے تحت اضلاع کو مالی خود مختاری دینے اور مقامی وسائل سے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں ساہیوال، سرگودھا، فیصل آباد اور ملتان ڈویژنز کے کمشنرز نے دستیاب وسائل اور مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر مریم نواز نے انتظامیہ پر واضح کیا کہ انہیں ایئرکنڈیشنڈ کمروں کے بجائے فیلڈ میں نظر آنا چاہیے، صرف کاغذی کارروائی (آئی واش) قبول نہیں کی جائے گی بلکہ گراؤنڈ پر کام نظر آنا چاہیے۔ انہوں نے پنجاب بھر کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز سے ہر ماہ یہ بیان حلفی لینے کا حکم دیا کہ ان کی حدود میں کوئی مین ہول کھلا نہیں ہے، اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری نوٹس جاری کیے جائیں۔ اجلاس کے دوران ساہیوال ڈویژن کے لیے 4 ارب روپے، سرگودھا ڈویژن کے لیے 8.2 ارب روپے، فیصل آباد ڈویژن کے لیے 3.5 ارب روپے اور ملتان ڈویژن کے چار اضلاع کے لیے 3 ارب روپے کی کل 22 ترقیاتی سکیموں کی حتمی منظوری بھی دی گئی۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور (نیوز رپورٹر): وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کے 21 ویں کانووکیشن میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور طالبات کے لیے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی میں جدید ترین آئی ٹی و روبوٹک سینٹر اور ایک ایڈوانس ٹیک ٹاور کی تعمیر کا حکم دیا گیا ہے تاکہ طالبات کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو سکے۔ کانووکیشن کے دوران بی ایس، ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی مجموعی طور پر 4609 طالبات کو ڈگریاں تفویض کی گئیں جبکہ تعلیمی میدان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی 716 طالبات کو گولڈ میڈلز اور دیگر اعزازات سے نوازا گیا۔ مریم نواز نے یونیورسٹی کی گرانٹ میں 600 ملین روپے تک اضافے کا اعلان بھی کیا تاکہ تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے طالبات کی سہولت کے لیے ایک نئے اسٹیٹ آف دی آرٹ گرلز ہاسٹل اور انڈور جمنیزیم کی تعمیر کی منظوری بھی دی اور اعلان کیا کہ اگلے سال سے طالبات کو ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی تاکہ ان کے سفری مسائل مستقل بنیادوں پر حل ہو سکیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین کی بااختیاری ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ان کی کابینہ کی سب سے محنت کش ارکان بھی خواتین ہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملک معاشی بحرانوں سے نکل کر استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے اور اب پاکستان عالمی سطح پر ایک بہتر مقام حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل بالخصوص بیٹیوں کو ملک کا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ وہ اپنی محنت سے ملک کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور (نیوز رپورٹر): کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا مریضوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے گروہ کا مکروہ دھندہ بے نقاب ہو گیا۔ مارکیٹ میں کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے مہنگے انجکشنز 'امفجری' اور 'ایبہر ٹو' کے جعلی نسخے اصل لیبل لگا کر فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے اس سنگین صورتحال پر فوری ایکشن لیتے ہوئے ملک بھر میں الرٹ جاری کر دیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جیل روڈ اور دیگر میڈیکل مارکیٹس میں "موت کے سوداگروں" نے ان ادویات کی پیکنگ، لیبلنگ اور بار کوڈز کو اس مہارت سے تیار کیا کہ وہ بالکل اصل معلوم ہوتے ہیں، تاہم وہ مکمل طور پر جعلی اور انسانی جان کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ بین الاقوامی کمپنی کی تصدیق: ڈریپ کے مطابق، ان ادویات کی اصل مینوفیکچرر بین الاقوامی کمپنی 'ایسٹرازینیکا' نے بھی رابطہ کرنے پر تصدیق کی ہے کہ مارکیٹ میں موجود مذکورہ بیچ نمبرز والی ادویات ان کی تیار کردہ نہیں ہیں۔ کمپنی نے واضح کیا کہ ان ادویات کی پیکنگ اور سیکیورٹی فیچرز ان کے معیار کے مطابق نہیں ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مقامی سطح پر تیار کردہ جعلی مال ہے۔حکام کی ہدایات:ڈرگ انسپکٹرز کو حکم: تمام ڈرگ انسپکٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مارکیٹ سے ان جعلی ادویات کا اسٹاک فوری طور پر قبضے میں لیں اور ان کی فروخت رکوائیں۔ڈاکٹرز اور اسپتالوں کو تنبیہ: طبی ماہرین، فارماسسٹس اور اسپتال انتظامیہ کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ کینسر کی ادویات کی خریداری کے وقت بیچ نمبرز اور کمپنی کے حفاظتی نشانات کی باریک بینی سے جانچ کریں۔عوام سے اپیل: شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ دوا کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔محکمہ صحت نے اس معاملے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور کریک ڈاؤن کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
صوبہ سرمایہ کاری کا عالمی مرکز بن گیا، وزیر اعلیٰ مریم نواز کے اقدامات ثمر آور ثابت ہو رہے ہیں، علی ڈار
لاہور (نیوز رپورٹر): صوبائی مشیر برائے آئی ٹی علی ڈار سے مس لیو ژوائی کی سربراہی میں چینی کمپنی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور سمیت سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے مابین تجارت، ای کامرس، زراعت اور بالخصوص الیکٹرک وہیکل مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر علی ڈار کا کہنا تھا کہ پنجاب اس وقت خطے میں سرمایہ کاری کے لیے سب سے بہترین مقام بن چکا ہے جہاں عالمی شراکت داری کے ذریعے معاشی استحکام کی نئی راہیں متعین کی جا رہی ہیں۔انہوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دور اندیش وژن کے تحت صوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے نئے دروازے کھل رہے ہیں اور بین الاقوامی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔ چین اور پنجاب کے مابین اس معاشی تعاون سے جہاں صنعتی ترقی کی رفتار تیز ہوگی وہیں دوطرفہ تعلقات کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچایا جائے گا۔ علی ڈار نے وفد کو یقین دلایا کہ حکومتِ پنجاب سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی، شفاف نظام اور تیز رفتار فیصلہ سازی کو یقینی بنا رہی ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
150 سی سی موٹر سائیکلوں کی ٹرانسفر فیس معاف، کچے کے آپریشن پر وزیر اعلیٰ کو خراج تحسین
ماس ٹرانزٹ اتھارٹی میں بھرتیوں سے پابندی اٹھا لی گئی، داتا دربار ہسپتال محکمہ اوقاف کے حوالے، غنڈہ گردی کنٹرول ایکٹ منظور
لاہور (خصوصی رپورٹ): وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 34 واں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عوامی فلاح و بہبود اور انتظامی معاملات سے متعلق کئی بڑے اور تاریخی فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کی سب سے نمایاں بات 150 سی سی تک کی موٹر سائیکلوں کی ٹرانسفر فیس کا مکمل خاتمہ ہے جس سے شہریوں کو بڑا ریلیف ملے گا۔تفصیلات کے مطابق، کابینہ اجلاس میں داتا دربار ہسپتال کا انتظامی کنٹرول فوری طور پر محکمہ اوقاف کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی میں نئی بھرتیوں پر عائد پابندی بھی ختم کر دی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں کے حوالے سے، صوبے بھر کے سکولوں میں 22 مئی سے 24 اگست تک موسم گرما کی طویل تعطیلات کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ امن و امان اور معاشرتی برائیوں کے خاتمے کے لیے صوبائی کابینہ نے 'پنجاب کنٹرول آف غنڈہ اینڈ اینٹی سوشل بیہیویئر ایکٹ 2025' کے ڈرافٹ کی منظوری دی۔ اجلاس میں کچے کے علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کامیاب آپریشن پر وزیر اعلیٰ مریم نواز کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ، 'معرکہ حق' کی پہلی سالگرہ کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، وزیر اعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، ایئر چیف اور نیول چیف کی خدمات کو بھی بھرپور سراہا گیا۔علاوہ ازیں، کابینہ نے متعدد ترقیاتی اور انتظامی منصوبوں کو ہری جھنڈی دکھائی جن میں ایکسل لوڈ مینجمنٹ، نیو انرجی وہیکل، انشورنس کمپنی کا قیام اور جدید صوبائی ٹریفک مینجمنٹ اینڈ کمانڈ سینٹر بنانا شامل ہے۔ صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے انڈسٹریل زونز میں پلاٹوں کی لیز اور کرائے کے قواعد و ضوابط کے ساتھ ساتھ سپیشل اکنامک زونز کے لیے لینڈ یوز رولز میں ترامیم کی منظوری بھی دی گئی۔اجلاس کے دوران انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 اور پنجاب آرمز ایکٹ میں ترامیم کے علاوہ پروونشل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی تشکیل نو، گارمنٹ سٹی کے قیام اور کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 33ویں، 34ویں اور 35ویں اجلاسوں کے فیصلوں کی باقاعدہ توثیق بھی کی گئی۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
کاروباری اوقات کار میں توسیع نہ ہونے پر تاجر برادری کی جانب سے ہڑتال کی دھمکی
ہول سیل مارکیٹیں رات 8 اور ریٹیل مارکیٹیں 10 بجے تک کھولنے کی اجازت دی جائے: صدر انجمن تاجران مجاہد مقصود بٹ
لاہور (خصوصی رپورٹ): اوقات کار کی سخت پابندیوں اور لاک ڈاؤن سے معاشی بدحالی کا شکار تاجروں نے رات 10 بجے تک کاروبار کھولنے کی اجازت نہ ملنے کی صورت میں ہڑتال کا انتباہ جاری کر دیا ہے۔ انجمن تاجران کے صدر مجاہد مقصود بٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک مستقل پالیسی وضع کی جائے جس کے تحت ہول سیل مارکیٹوں کو رات 8 بجے اور ریٹیل مارکیٹوں کو رات 10 بجے تک کھلی رہنے کی باقاعدہ اجازت ہو۔لاہور پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجاہد مقصود بٹ نے کہا کہ موجودہ حکومتی فیصلوں کے باعث ریٹیلرز تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ رات 8 بجے مارکیٹ بند کرنے کے فیصلے سے ہول سیلرز کو تو شاید زیادہ فرق نہ پڑے، لیکن ریٹیل دکاندار شدید معاشی بحران کا شکار ہیں اور اس وقت اپنے ملازمین کی تنخواہیں تک ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ ملکی معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے فوری طور پر مستقل اور مستحکم پالیسی بنائی جائے۔ صدر انجمن تاجران نے مارکیٹوں میں سکیورٹی کی ناقص صورتحال اور پولیس کے رویے پر بھی کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ رات 8 بجے دکانیں زبردستی بند کرواتے وقت تاجروں کی تذلیل کی جاتی ہے، جبکہ مارکیٹوں میں نہ تو پولیس کا گشت ہوتا ہے اور نہ ہی سیف سٹی کیمرے فعال ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی مایوسی کا اظہار کیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے تاجروں کو رات 10 بجے تک کی رعایت دی تھی جسے وفاقی حکومت نے مسترد کر کے 8 بجے کا فیصلہ مسلط کر دیا۔اپنے خطاب کے آخر میں مجاہد مقصود بٹ نے حکومت کو خبردار کیا کہ تاجر طبقہ ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم محاذ آرائی یا احتجاج کا کوئی شوق نہیں رکھتے، لیکن اگر حکومت نے ہمارے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے تو معاشی بدحالی کے ستائے ہوئے تاجر سڑکوں پر نکلنے اور بھرپور احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
پنجاب میں پیشہ ور بھکاری مافیا کے خلاف گھیرا تنگ، سپیشل برانچ کو پروفائلنگ کا ٹاسک تفویض
لاہور (نمائندہ خصوصی): پنجاب میں جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث پیشہ ور گداگروں اور ان کے منظم نیٹ ورکس کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ہزاروں مقدمات درج ہونے کے باوجود صوبے میں گداگری پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد، حکومت نے اب ان بھکاری گینگز کی جامع پروفائلنگ کروانے کا حکم دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، لاہور سمیت صوبہ بھر میں سرگرم گداگر مافیا کا مکمل ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ذمہ داری سپیشل برانچ کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اس مہم کے تحت نہ صرف بھکاریوں کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ جمع کیا جائے گا، بلکہ اس بات کی بھی کھوج لگائی جائے گی کہ ان منظم گروہوں کے سرغنہ کون ہیں، وہ کتنے عرصے سے یہ نیٹ ورک چلا رہے ہیں اور ایک گینگ کے تحت کتنے افراد سے بھیک منگوائی جا رہی ہے۔آئی جی آفس کی جانب سے تمام اضلاع کے ڈی پی اوز اور سپیشل برانچ کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ بار بار کارروائیوں کے باوجود باز نہ آنے والے ان پیشہ ور گداگروں کی پروفائلنگ فوری مکمل کریں۔ تمام تر خفیہ معلومات اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد رپورٹ آپریشنز برانچ پنجاب کو ارسال کی جائے گی، جس کی روشنی میں ان منظم گروہوں کے خلاف سخت اور فیصلہ کن قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
پاک چین تعاون: نئی ٹیکسٹائل فیکٹری کے قیام کے اہم معاہدے پر دستخط
صوبائی وزیر چوہدری شافع حسین اور چینی کمپنی کی ڈائریکٹر کے درمیان مفاہمت کی یادداشت طے پا گئی
اگلے برس برآمدات کا آغاز ہوگا، دو سالوں میں 300 ملین ڈالر کا ہدف، 10 ہزار نئی اسامیاں پیدا ہوں گی
لاہور (خصوصی رپورٹ) پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی اور معاشی روابط میں مزید وسعت لاتے ہوئے ایک نئی ٹیکسٹائل فیکٹری لگانے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس اہم مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین اور چینی فرم 'آئی بی آئی' کی ڈائریکٹر میڈم لیو نے دستخط کیے۔تفصیلات کے مطابق، چین میں تعینات پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی اور صوبائی وزیر چوہدری شافع حسین نے چینی سرمایہ کاروں کے ایک وفد کے ہمراہ لاہور قصور روڈ پر واقع 'چیلنج سپیشل اکنامک زون' کا دورہ کیا۔ انہوں نے 200 ملین ڈالر کی لاگت سے جاری اس منصوبے کے تعمیراتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چوہدری شافع حسین نے آگاہ کیا کہ 200 ملین امریکی ڈالر کی اس خطیر چینی سرمایہ کاری سے اکنامک زون کا پہلا مرحلہ آئندہ سال مکمل ہو جائے گا، جس کی بدولت ابتدائی طور پر 8 ہزار افراد کے لیے روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت چینی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات اور مراعات فراہم کر رہی ہے تاکہ ملک میں مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔ اسی سازگار ماحول کے باعث ایک چینی موبائل فون کمپنی بھی جلد پاکستان میں اپنا مقامی مینوفیکچرنگ پلانٹ نصب کرنے جا رہی ہے۔نئے ٹیکسٹائل معاہدے کے ثمرات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا کہ اگلے سال سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی باقاعدہ ایکسپورٹ شروع کر دی جائے گی۔ اس منصوبے کے تحت آئندہ دو برسوں میں ویلیو ایڈیشن کی مدد سے 300 ملین ڈالر مالیت کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اس فیکٹری کے قیام سے 10 ہزار افراد کو براہ راست روزگار فراہم ہوگا۔مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی اس تقریب میں چینی سرمایہ کار اور چیلنج گروپ کے چیئرمین مسٹر ہونگ، منیجنگ ڈائریکٹر مس کیرن چن، صوبائی سیکرٹری صنعت و تجارت عمر مسعود، ڈی جی پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ ڈاکٹر سہیل احمد اور چیف ایگزیکٹو لیسکو انجینئر محمد رمضان بٹ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن: زائد المیعاد لائسنس پر 5 ہزار روپے جرمانے کا اعلان
سٹی ٹریفک پولیس کا کم عمر اور بغیر لائسنس ڈرائیوروں کے خلاف 'جنرل ہولڈ اپ'، گاڑیاں تھانوں میں بند کی جائیں گی
لاہور (نمائندہ خصوصی) سٹی ٹریفک پولیس نے ٹریفک قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے اور حادثات کی روک تھام کے لیے کم عمر اور بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے سڑکوں پر آنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن (جنرل ہولڈ اپ) کا آغاز کر دیا ہے۔چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) عبدالرحیم شیرازی کی جانب سے جاری کردہ نئی ہدایات کے مطابق، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں کی شرح میں سختی لائی گئی ہے۔نئے احکامات کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں: بھاری جرمانے: زائد المیعاد (ایکسپائرڈ) لائسنس یا محض لرنر پرمٹ پر کار چلانے والے ڈرائیورز کو 5 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا، جبکہ اسی خلاف ورزی پر موٹر سائیکل سواروں کو 2 ہزار روپے کا چالان ادا کرنا ہوگا۔کم عمر ڈرائیورز کے خلاف ایکشن: سی ٹی او نے واضح کیا ہے کہ کم عمر ڈرائیوروں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ چالان کے علاوہ ان کی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں فوری طور پر متعلقہ تھانوں میں بند کر دی جائیں گی۔ٹرپل سواری پر پابندی: شہریوں کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے پیشِ نظر، موٹر سائیکل پر تین افراد کے بیٹھنے (ٹرپل سواری) کے خلاف بھی بلا امتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔کمرشل گاڑیوں کے لیے مخصوص لائسنس: کار یا موٹر سائیکل کے عام لائسنس پر کمرشل یا پبلک سروس گاڑیاں چلانے کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔ بسوں، ویگنوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیورز کے پاس پبلک سروس وہیکل (PSV) لائسنس کا ہونا لازمی ہے۔ہیوی ٹریفک کے قواعد: سید عبدالرحیم شیرازی نے مزید ہدایت کی ہے کہ ٹرک، ٹرالر، لوڈر اور دیگر ہیوی گاڑیاں چلانے والے افراد کے لیے ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکل (HTV) لائسنس رکھنا ناگزیر ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
مہنگائی کا طوفان بے قابو: گوشت، سبزیاں اور آٹا عوام کی پہنچ سے دور، سرکاری نرخنامے ہوا میں اڑ گئے
پرائس کنٹرول مجسٹریٹس ناکام، برائلر گوشت سرکاری ریٹ 540 کے بجائے 560 روپے میں فروخت سبزیوں اور پھلوں پر 30 سے 50 روپے تک کی اضافی وصولی، 3500 والی گندم کا آٹا 4300 روپے من سے متجاوز شہریوں کا گراں فروشوں کے خلاف سخت کارروائی اور سرکاری ریٹ لسٹ پر عملدرآمد کا مطالبہ
لاہور (نمائندہ خصوصی) شہر میں مہنگائی کی بے قابو لہر نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اشیائے خورونوش، بالخصوص گوشت اور سبزیوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ضلعی انتظامیہ کے لیے ایک کڑا چیلنج بن چکا ہے۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد کروانے میں بری طرح ناکام دکھائی دے رہے ہیں، جس کے باعث اوپن مارکیٹ اور سرکاری قیمتوں میں واضح فرق برقرار ہے۔گوشت اور سبزیوں کی من مانی قیمتیں: مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو سستے پروٹین کا حصول بھی غریب کے لیے خواب بن گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے مرغی کے گوشت کا سرکاری ریٹ 540 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں ہر دکاندار نے اپنے ریٹ مقرر کر رکھے ہیں اور مرغی 550 سے 560 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ دکاندار سرکاری نرخنامے کو خاطر میں لائے بغیر سبزیوں اور پھلوں پر فی کلو 30 سے 50 روپے تک کا اضافی منافع وصول کر رہے ہیں۔بازاروں میں نیا کچا آلو (درجہ اول) 20 کے بجائے 40 روپے، پیاز 60 کے بجائے 70 روپے، اور ٹماٹر 25 کے بجائے 40 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ دیگر سبزیوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں؛ کریلا 60 کے بجائے 90، مٹر 130 کے بجائے 150 اور شملہ مرچ 60 کے بجائے 100 روپے تک بیچی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں سیب، کیلا اور امرود جیسے پھل بھی مہنگے داموں فروخت ہو رہے ہیں۔آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ: دوسری جانب فلور ملز کی طرف سے نئی گندم سے تیار کردہ آٹے کی سپلائی مارکیٹ میں پہنچنا شروع ہو گئی ہے، مگر یہ بھی عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ رپورٹ کے مطابق 3500 روپے فی من والی گندم کا آٹا اوپن مارکیٹ میں 4300 روپے فی من کی حد بھی عبور کر چکا ہے۔ پرچون سطح پر 10 کلو آٹے کا تھیلا 1080 روپے، 15 کلو کا تھیلا 1600 روپے، اور 20 کلو آٹے کا تھیلا 2130 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔عوام اور دکانداروں کا موقف: اس صورتحال پر شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ عوام نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ زبانی جمع خرچ کے بجائے سرکاری نرخناموں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور منافع خوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ دوسری طرف سبزی فروشوں نے اپنی صفائی میں موقف اختیار کیا ہے کہ انہیں تھوک منڈیوں سے ہی سبزیاں اور پھل سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق فراہم نہیں کیے جاتے، جس کے باعث وہ آگے مہنگا بیچنے پر مجبور ہیں۔
عوامی دباؤ اور تلخ کلامی کے واقعات پر قابو پانے کی حکمتِ عملی: ٹریفک وارڈنز کے نفسیاتی معائنے کا فیصلہ
ماہرینِ نفسیات ٹریفک اہلکاروں کے رویوں، ذہنی صحت اور قوتِ برداشت کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیں گے
اہلکاروں کے خاندانی تعلقات کو بھی پرکھا جائے گا، نفسیاتی رپورٹس کی روشنی میں جامع اصلاحی اور خصوصی سپورٹ پروگرام لانے کی تجویز
لاہور (نیوز ڈیسک) سڑکوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے دوران شہریوں سے ہونے والی تلخ کلامی اور مسلسل عوامی دباؤ کے پیشِ نظر، ٹریفک وارڈنز کے باقاعدہ نفسیاتی چیک اپ کا اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، فیلڈ ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کی ذہنی صحت اور رویوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ماہرینِ نفسیات کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔ اس عمل کے دوران وارڈنز پر پڑنے والے روزمرہ کے ذہنی تناؤ اور عوام کے ساتھ ہونے والی بحث و تکرار کے اثرات کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کی قوتِ برداشت جانچنے کے لیے ان سے مختلف فرضی اور ہنگامی صورتحال کے حوالے سے سوالات پوچھے جائیں گے اور ان کے مختصر نفسیاتی ٹیسٹ بھی لیے جائیں گے۔ مزید برآں، وارڈنز کی نفسیاتی کیفیت کا مکمل ادراک کرنے کے لیے ان کے اہل خانہ کے ساتھ تعلقات کا بھی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس جامع جائزے کے بعد تیار کی جانے والی نفسیاتی رپورٹس کی روشنی میں ترجیحی بنیادوں پر اصلاحی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ڈیوٹی کے دوران اہلکاروں کے رویوں میں مثبت تبدیلی لانے اور ان کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے ایک خصوصی سپورٹ پروگرام متعارف کرانے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔
پنجاب حکومت کا صنعت و برآمدات کے فروغ کیلئے 100 ارب روپے کے میگا پیکج کا فیصلہ
ایکسپورٹ انڈسٹری کیلئے انتہائی کم مارک اپ پر طویل المدتی قرضوں کی تجویز، مخصوص شعبوں میں سود کی شرح صفر سے 5 فیصد تک رکھنے پر غور
چھوٹے، درمیانے اور بڑے درجے کی صنعتوں کیلئے جداگانہ فنانشل ماڈلز مرتب، ایس ایم ایز اور ایگرو سیکٹر کیلئے خصوصی مراعات کا اعلان کیا جائے گا
لاہور (نیوز ڈیسک) حکومتِ پنجاب نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے دوران معاشی استحکام اور صوبے میں صنعتی انقلاب لانے کے لیے تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ مستند ذرائع کے مطابق، ملکی برآمدات کو بڑھانے اور صنعت کاری کے فروغ کی غرض سے 100 ارب روپے مالیت کے ایک جامع "صنعتی ترقی و برآمدی پروگرام" کی منظوری زیرِ غور ہے۔اس خصوصی معاشی پیکج کے تحت سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو پرکشش مراعات دی جائیں گی، جن میں سستے قرضوں کی فراہمی اور شرحِ سود پر خطیر سبسڈی شامل ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میگا پراجیکٹ کا بنیادی مقصد برآمدات کے حجم میں اضافہ، نئی فیکٹریوں کا قیام اور صوبے میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنا ہے۔ مجوزہ پروگرام کی تفصیلات کے مطابق مینوفیکچرنگ، فارماسیوٹیکل، ایگرو پراسیسنگ اور ایس ایم ایز (SMEs) کے شعبوں کو ترجیحی بنیادوں پر ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ مزید برآں، صنعتوں کے حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے چھوٹے، درمیانے اور بڑے صنعتی پراجیکٹس کے لیے الگ الگ اور جدید مالیاتی ماڈلز بھی تیار کر لیے گئے ہیں۔برآمدات سے وابستہ صنعتوں کو خصوصی مراعات دیتے ہوئے 5 سے 10 سال کی طویل مدت کے لیے آسان قرضے فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ معاشی بوجھ کم کرنے اور بعض مخصوص صنعتی شعبوں کو سہولت دینے کے لیے شرحِ سود محض صفر سے 5 فیصد کے درمیان رکھنے کی تجاویز بھی اس پیکج کا حصہ ہیں۔حکومتی پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ معیشت کی مضبوطی کا براہِ راست انحصار صنعتی شعبے کی مستحکم ترقی اور ملکی برآمدات کے اہداف حاصل کرنے پر ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
ملک بھر کے سرکاری سکولوں کی مایوس کن کارکردگی: میٹرک امتحانات میں 5 لاکھ سے زائد طلبہ فیل
آئی بی سی سی (IBCC) رپورٹ 2025 کے ہوشربا انکشافات، پنجاب 3 لاکھ 58 ہزار سے زائد فیل طلبہ کے ساتھ سرِ فہرست
لاہور بورڈ میں 87 ہزار، خیبر پختونخوا میں 80 ہزار، جبکہ سندھ، بلوچستان اور وفاقی بورڈ میں بھی ہزاروں طلبہ ناکام
ماہرینِ تعلیم کا نتائج پر شدید تشویش کا اظہار، تدریسی معیار کی بہتری، نصاب میں تبدیلی اور اساتذہ کی تربیت کے لیے ہنگامی اصلاحات کا مطالبہ
لاہور (نیوز ڈیسک)ملک بھر میں سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ حالیہ میٹرک امتحانات کے نتائج نے تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کی نشاندہی کر دی ہے، جس کے مطابق پورے ملک میں 5 لاکھ سے زائد طلبہ امتحان پاس کرنے میں ناکام رہے ہیں۔انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) کی سال 2025 کی جاری کردہ تشویشناک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طلبہ کے فیل ہونے کی سب سے بڑی تعداد صوبہ پنجاب سے سامنے آئی ہے، جہاں 3 لاکھ 58 ہزار سے زائد امیدوار میٹرک کا امتحان پاس نہ کر سکے۔ اگر صرف لاہور بورڈ کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو وہاں 87 ہزار 419 طلبہ امتحانی مراحل عبور کرنے میں ناکام رہے۔رپورٹ کے مطابق دیگر صوبوں کے امتحانی نتائج بھی شدید مایوس کن رہے۔ خیبر پختونخوا میں 4 لاکھ 44 ہزار امیدواروں میں سے 80 ہزار 558 طلبہ فیل ہوئے۔ اسی طرح صوبہ سندھ میں 4 لاکھ 50 ہزار امیدواروں میں سے لگ بھگ 51 ہزار، جبکہ کوئٹہ بورڈ میں 78 ہزار 839 میں سے 9 ہزار 797 طلبہ ناکام قرار پائے ہیں۔ علاوہ ازیں، وفاقی تعلیمی بورڈ کے تحت امتحان دینے والے 1 لاکھ 37 ہزار امیدواروں میں سے بھی 15 ہزار 798 طلبہ کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ ان ہوشربا نتائج پر ماہرینِ تعلیم نے گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں طلبہ کا فیل ہونا دراصل ہمارے موجودہ تدریسی معیار اور امتحانی تیاریوں میں موجود سنگین خامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے اربابِ اختیار سے پرزور اپیل کی ہے کہ فرسودہ نصاب کو فوری طور پر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے جامع اصلاحات متعارف کروائی جائیں تاکہ تعلیمی نظام کو تباہی سے بچایا جا سکے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
ملک کی پہلی صوبائی جنرل انشورنس کمپنی کے قیام کی منظوری
وزیراعلیٰ مریم نواز کا جامع ہیلتھ انشورنس پالیسی لانے کا حکم؛ کسانوں، طلبہ اور اقلیتوں کو بھی مالی تحفظ ملے گا
لاہور (خصوصی رپورٹر): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب نے ملک کا پہلا صوبہ ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جس نے اپنی 'جنرل انشورنس کمپنی' متعارف کروا دی ہے۔ پنجاب لائف انشورنس کمپنی نے ایس ای سی پی (SECP) سے ملک کی تاریخ میں تیز ترین رجسٹریشن کا اعزاز حاصل کر کے باقاعدہ آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کمپنی کے قیام کے حوالے سے سمری صوبائی کابینہ کو ارسال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایک جامع 'ہیلتھ انشورنس پالیسی' کا پلان بھی طلب کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت معاشرے کے ہر طبقے، بشمول کسان، طلبہ، اوورسیز پاکستانی، خواجہ سرا اور اقلیتوں کو خصوصی انشورنس پلانز کے ذریعے مالی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔انتظامی امور اور ڈھانچہ: اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب جنرل انشورنس کمپنی محکمہ خزانہ کی زیرِ نگرانی کام کرے گی جبکہ تمام سرکاری اداروں کی انشورنس 'نان لائف' کی ذمہ دار ہو گی۔ کمپنی کے بورڈ میں چیئرمین پی اینڈ ڈی، سیکرٹری فنانس اور صدر بینک آف پنجاب شامل ہوں گے۔ اس منصوبے کو پیشہ ورانہ خطوط پر استوار کرنے کے لیے 17 ماہرین کی خدمات حاصل کی جا چکی ہیں۔وزیراعلیٰ کا عزم: ارکانِ اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ "پنجاب میں ترقی کے ایک درخشاں دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ ہم ایسی انشورنس پالیسی لائیں گے کہ شہری اپنی مرضی کے کسی بھی ہسپتال سے بہترین علاج کروا سکیں گے۔" انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اصلاحات میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے اور رہے گا۔ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ: اجلاس کے دوران ارکانِ اسمبلی نے صوبے میں جاری 13 ہزار کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر و مرمت، 'ستھرا پنجاب' مہم اور 'اپنا کھیت، اپنا روزگار' جیسے منصوبوں پر وزیراعلیٰ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ دیہات میں شہروں کی طرز پر صفائی کا نظام اور صاف پانی کی فراہمی مریم نواز حکومت کا انقلابی قدم ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور (بیورو رپورٹ): پنجاب میں غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ ادویات کے خلاف جاری مہم کے دوران ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری (DTL) نے ایک اور ہولناک انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پروسٹیٹ کے مریضوں کے لیے استعمال ہونے والی اہم دوا ’ٹمسولین‘ (Tamsulin) کے نمونے لیبارٹری ٹیسٹ میں فیل ہو گئے ہیں، جس میں مضرِ صحت اجزاء کی ملاوٹ پائی گئی ہے۔ مریضوں کی زندگی داؤ پر: طبی ماہرین اور ڈرگ کنٹرول حکام کا کہنا ہے کہ پروسٹیٹ جیسے حساس مرض کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا میں ملاوٹ مریضوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ ڈرگ لیب نے اس دوا کے مخصوص بیچ (Batch) کو غیر معیاری قرار دیتے ہوئے اسے انسانی استعمال کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔محکمہ صحت کی کارروائی: لیب رپورٹ سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ’ٹمسولین‘ کے متاثرہ بیچ کو مارکیٹ سے فوری طور پر قبضے میں لینے اور اس کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ تمام ڈرگ انسپکٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں میڈیکل اسٹورز اور فارمیسیوں کا معائنہ کریں اور مذکورہ اسٹاک کو فوری طور پر ضبط کریں۔ پسِ منظر: واضح رہے کہ صوبے بھر میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کی روک تھام کے لیے کریک ڈاؤن جاری ہے۔ گزشتہ روز بھی مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی 9 دیگر ادویات کو غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ پائے جانے پر مارکیٹ سے ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔ حکام کا عزم ہے کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے ڈرگ مافیا کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور (نمائندہ خصوصی): حکومتِ پنجاب نے شہریوں، بالخصوص خواتین کے سفر کو محفوظ بنانے کے لیے آن لائن ٹیکسی ڈرائیورز کی مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لاہور پولیس اور نجی ٹیکسی کمپنیوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت اب کوئی بھی جرم پیشہ فرد سڑکوں پر ٹیکسی نہیں چلا سکے گا۔ اہم اقدامات اور معاہدے کی تفصیلات: لازمی کلیئرنس سرٹیفکیٹ: نئی پالیسی کے مطابق، کسی بھی ڈرائیور کو سسٹم میں شامل کرنے سے پہلے اس کا پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ڈیٹا بیس کی منتقلی: تمام آن لائن ٹیکسی ڈرائیورز کا ریکارڈ لاہور پولیس کے مرکزی ڈیجیٹل سسٹم سے منسلک کر دیا گیا ہے، تاکہ ان کے ماضی کے ریکارڈ کی فوری جانچ ہو سکے۔سیکیورٹی مانیٹرنگ: ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام کے ذریعے مشکوک افراد کی نشاندہی سیکنڈوں میں ممکن ہوگی اور کسی بھی ریکارڈ یافتہ مجرم کو اسٹیرنگ سنبھالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومتی سخت ہدایات: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق، ٹیکسی کمپنیوں کو نئی سیکیورٹی پالیسی پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ سخت اقدامات حالیہ دنوں میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات، بالخصوص ’اسکوٹی گرل‘ کیس کے تناظر میں کیے گئے ہیں تاکہ عوامی مقامات اور سواریوں میں سیکیورٹی کے خلا کو پُر کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی میں غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
لاہور (خصوصی رپورٹر): اسپیکر ملک محمد احمد خان کی زیرِ صدارت پنجاب اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں اہم قانون سازی کی گئی، جس میں غیر منقولہ جائیداد کے مالکانہ حقوق اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس سمیت کئی اہم بل منظور کر لیے گئے۔محکمہ زکوٰۃ و عشر کے ملازمین کی قلیل تنخواہ پر اسپیکر کا اظہارِ تشویش: اجلاس کے دوران اس وقت حیرت انگیز صورتحال پیدا ہوگئی جب یہ انکشاف ہوا کہ محکمہ زکوٰۃ و عشر کے بعض ملازمین کو محض 240 روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے۔ اسپیکر کا ردِعمل: ملک محمد احمد خان نے اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنی قلیل رقم میں کوئی شخص کیسے گزارا کر سکتا ہے؟کمیٹی کو ریفر: اسپیکر نے معاملے کی سنگینی کے پیشِ نظر اسے قائمہ کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کا معاملہ: ایوان میں صوبے کی جیلوں کی ابتر صورتحال پر بھی بحث کی گئی۔ہولناک اعداد و شمار: پارلیمانی سیکرٹری خالدہ رانجھا نے بتایا کہ پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کی گنجائش 38 ہزار ہے جبکہ اس وقت 71 ہزار سے زائد قیدی وہاں موجود ہیں۔حکومتی حل: حکومت نے آگاہ کیا کہ جیلوں میں گنجائش بڑھانے کے لیے نئی بیرکیں اور نئی جیلیں تعمیر کی جا رہی ہیں تاکہ صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔ دیگر اہم فیصلے اور بلز: آرڈیننس کی توسیع: ایوان نے 'بچوں کی شادی کی ممانعت آرڈیننس 2026' سمیت 4 مختلف آرڈیننسز کی مدت میں 90 روز کی توسیع کی منظوری دی۔انفراسٹرکچر سیس: پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (ترمیمی) بل بھی کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔کورم کی نشاندہی: اجلاس کے اختتام پر اپوزیشن کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی گئی، جس پر گنتی کرنے کے بعد کورم پورا نہ ہونے پر اسپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا۔
لاہور (خصوصی رپورٹر): پنجاب حکومت نے صوبے میں نقل و حمل کے جدید نظام کے لیے بڑے منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ لاہور سے راولپنڈی کے درمیان ہائی سپیڈ ٹرین چلانے کے لیے فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کی خاطر 82 کروڑ روپے کے فنڈز منظور کر لیے گئے ہیں۔ پی اینڈ ڈی بورڈ کا اہم اجلاس: چیئرمین پی اینڈ ڈی بورڈ ڈاکٹر نعیم رؤف کی زیر صدارت صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (PDWP) کا 71 واں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں لاہور تا راولپنڈی ہائی سپیڈ ٹرین سمیت مختلف شعبوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 31 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔ منظور کیے گئے دیگر اہم منصوبے: اجلاس میں صحت، مواصلات اور ریلوے کے شعبوں میں درج ذیل فنڈز کی منظوری دی گئی:
ریلوے انفراسٹرکچر: پنجاب میں ریجنل ریلوے ٹریکس کی فزیبلٹی رپورٹ کے لیے 1 ارب 40 کروڑ روپے مختص۔
صحت کی سہولیات: مختلف ٹیچنگ اسپتالوں میں 150 آئی سی یو بیڈز اور وینٹی لیٹرز کی فراہمی کے لیے 1 ارب 50 کروڑ روپے کی منظوری۔ اس کے علاوہ فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان، گوجرانوالہ اور سرگودھا میں پی آئی یو ہیلتھ کے تحت منصوبے بھی شامل ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر و مرمت: * ایم ٹو (M-2) سے خانقاہ ڈوگراں انٹرچینج تک سڑک کی بحالی کے لیے 2 ارب روپے مخص۔ فتح جنگ، ڈھلیاں اور تلہ گنگ روڈ سے کھرل تک ڈوئل کیریج وے کی بہتری کے لیے 2 ارب 24 کروڑ روپے۔ کشمیری بازار کی توسیع کے لیے 6 ارب روپے کے فنڈز۔ علاقائی ترقی: گوجرانوالہ میں جاری مختلف ترقیاتی اسکیموں کے لیے مجموعی طور پر 17 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔ پینے کا صاف پانی: رورل سسٹین ایبل واٹر سپلائی اینڈ سینی ٹیشن پروجیکٹ کے لیے مختلف پوزیشنز کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے شرکاء: اجلاس میں سیکرٹری پی اینڈ ڈی بورڈ رفاقت علی، چیف اکانومسٹ، ممبران بورڈ اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور اور راولپنڈی کے درمیان ہائی سپیڈ ٹرین سے نہ صرف سفری وقت میں کمی آئے گی بلکہ معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور (بیورو رپورٹ): محکمہ صحت نے ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کی حالیہ رپورٹ کی روشنی میں مارکیٹ میں موجود 9 مختلف ادویات کے نمونے فیل ہونے پر ان کی فروخت پر فوری پابندی عائد کرتے ہوئے اسٹاک مارکیٹ سے ہٹانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ غیر معیاری ادویات کی فہرست: رپورٹ کے مطابق جن ادویات کو غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ پایا گیا ہے ان میں درج ذیل شامل ہیں: درد کش مرہم زائلوکین جیل (جعلی بیج) نیو کو بال انجکشن واٹر نیوٹر لائن کاراڈو انجکشن (ملاوٹ شدہ) انفیوژن جل سول (1000 اور 500 ملی لیٹر) درد کے لیے استعمال ہونے والا پین اسٹاپ انجکشن جسم سن کرنے والا انجکشن سینسوکین پٹھوں اور آرتھرائٹس کے علاج کی ٹیبلٹ کاڈین لیب رپورٹ کے ہولناک انکشافات: ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ ادویات نہ صرف غیر معیاری ہیں بلکہ ان میں شدید ملاوٹ پائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مافیا ادویات کے نام پر "زہر" فروخت کر رہا تھا، یہاں تک کہ بعض انفیوژنز میں پانی کی موجودگی اور فارمولے میں سنگین نقائص پائے گئے۔ حکومتی کارروائی: محکمہ صحت نے الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام میڈیکل اسٹورز اور اسپتالوں کو ہدایت کی ہے کہ ان ادویات کا استعمال فوری طور پر روک دیا جائے اور مذکورہ بیچز (Batches) کا تمام اسٹاک مارکیٹ سے واپس اٹھا لیا جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور (نمائندہ خصوصی): پنجاب حکومت نے صوبے کے محنت کشوں کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے کم از کم اجرت کو 40 ہزار روپے تک بڑھانے کے ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے۔ اس بل کی حتمی توثیق گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کریں گے۔ قانونی تضاد اور درپیش چیلنجز: خبر کے مطابق ’ملازمین سوشل سیکیورٹی آرڈیننس 1965‘ میں ترمیم کا بل تو منظور کر لیا گیا ہے، تاہم ایک بڑی قانونی رکاوٹ سامنے آئی ہے۔ جہاں ایک طرف کم از کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، وہیں سوشل سیکیورٹی کے دائرہ کار کے لیے تنخواہ کی بالائی حد (Upper Limit) اب بھی پرانے قانون کے مطابق 22 ہزار روپے پر برقرار ہے۔ اس تضاد کی وجہ سے محکماتی سطح پر قانونی اور انتظامی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مزدوروں کا تحفظ: پنجاب حکومت نے مزدور طبقے کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے اس بل کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اصلاحات کی ضرورت: متن میں واضح کیا گیا ہے کہ دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق قانونی اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ کم از کم اجرت کے ثمرات نچلے طبقے تک پہنچ سکیں۔ ماضی کے بقایاجات: جولائی 2022 سے اب تک جمع کرائی گئی سوشل سیکیورٹی شراکتوں (Contributions) کو قانونی طور پر درست قرار دینا بھی اس عمل کا حصہ ہے۔ حتمی منظوری: گورنر پنجاب کی جانب سے دستخط ہوتے ہی یہ بل باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا، جس کے بعد تمام نجی و سرکاری اداروں میں مقررہ اجرت پر عملدرآمد لازمی ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تنخواہ کی حد (22 ہزار روپے) میں فوری تبدیلی نہ کی گئی تو مراعات کے حصول میں ملازمین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور (نیوز ڈیسک): وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عید الاضحیٰ کے موقع پر صوبے بھر میں صفائی ستھرائی کے انتظامات کو فول پروف بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا حکم دے دیا ہے۔ اس سال پہلی بار عید آپریشن کی مانیٹرنگ کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی مدد لی جائے گی، جس کے ذریعے گندگی کی نشاندہی سیکنڈوں میں ممکن ہوگی۔
جدید مانیٹرنگ اور آپریشنل تفصیلات: وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں طے پایا کہ:
اے آئی بیسڈ سسٹم: پنجاب میں پہلی بار اے آئی بیسڈ کمپلینٹ سیل قائم کیا گیا ہے۔ صفائی کے عملے کی موٹر بائیکس پر نصب اے آئی کیمرے گلی محلوں میں گندگی اور کوڑے کے ڈھیروں کی فوری نشاندہی کریں گے۔
بڑی افرادی قوت اور مشینری: عید آپریشن کے لیے 1 لاکھ 76 ہزار ملازمین اور 40 ہزار گاڑیاں فیلڈ میں موجود ہوں گی جن کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔
ریئل ٹائم مانیٹرنگ: جدید کیمروں کے ذریعے لائیو امیج کیپچرنگ اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ صفائی کی صورتحال کا لمحہ بہ لمحہ جائزہ لیا جا سکے۔ ملازمین کی حاضری اور تادیبی کارروائی: حکومت نے 'گھوسٹ' اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک نئی موبائل ایپ تیار کی گئی ہے جس کے ذریعے ملازمین کی حاضری اور مقام (Location) کو یقینی بنایا جائے گا۔ ڈیوٹی میں غفلت برتنے والے عملے کو موقع پر ہی جرمانے کیے جائیں گے۔
عوام کے لیے سہولیات اور ہدایات:بایو ڈی گریڈیبل بیگز: آلائشیں ٹھکانے لگانے کے لیے شہریوں میں خصوصی بیگز تقسیم کیے جائیں گے۔ویسٹ کلیکشن سینٹرز: ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کلیکشن سینٹرز کی تعداد اور گنجائش میں اضافہ کیا جائے۔آن اسپاٹ جرمانہ: مقررہ مقامات کے علاوہ کسی بھی جگہ آلائشیں یا کوڑا کرکٹ پھینکنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا اور موقع پر ہی بھاری جرمانے عائد ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ'ستھرا پنجاب' مہم کے تحت عید کے دنوں میں صفائی کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام اضلاع کے انتظامی افسران خود فیلڈ میں موجود رہ کر آپریشن کی نگرانی کریں گے۔
لاہور کو "چائلڈ فرینڈلی سٹی" بنانے کیلئے ایل ڈی اے اور یونیسف میں تاریخی معاہدہ
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کی بطور مہمان خصوصی شرکت ، ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق اور یونیسف کی نمائندہ پرنیل آرنسائیڈ نے ایم او یو پر دستخط کر دیئے
لاہور (بیورو رپورٹ) لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور عالمی ادارے یونیسف کے درمیان صوبائی دارالحکومت کو بچوں کے لیے سازگار اور محفوظ شہر بنانے کے حوالے سے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی جس میں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی تقریب کے دوران ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق اور یونیسف کی پاکستان میں نمائندہ پرنیل آرنسائیڈ نے باقاعدہ یادداشت پر دستخط کیے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ حقیقی شہری ترقی محض سڑکوں اور پلوں کی تعمیر نہیں بلکہ بچوں کے محفوظ مستقبل سے جڑی ہے انہوں نے واضح کیا کہ ایل ڈی اے کے اسکولوں کے بچوں کو مستقبل کی بنیاد بنایا جائے گا اور شہری منصوبہ بندی میں بچوں کے حقوق، مساوات اور شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا تقریب میں صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر، میاں مرغوب احمد، چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ، چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد، جہاں آراء وٹو اور وائس چیئرمین ایل ڈی اے نے بھی شرکت کی یونیسف کی نمائندہ پرنیل آرنسائیڈ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس ایم او یو کے تحت لاہور میں بچوں کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور حکومت کے ساتھ مل کر بچوں کو شہری منصوبہ بندی کا مرکز بنایا جائے گا یہ معاہدہ بچوں کی فلاح و بہبود اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک بڑا قدم ہے جس سے لاہور کو بین الاقوامی سطح پر ایک مثالی "بچہ دوست" شہر کے طور پر متعارف کرایا جائے گا
سپر ٹیکس ختم اور تاجروں پر ماہانہ 10 ہزار فکسڈ ٹیکس عائد کیا جائے
پاکستان بزنس فورم کی بجٹ تجاویز ٹیکس وصولی بجلی کے بلوں کے ذریعے کرنے کی تجویز، فکسڈ ٹیکس ادائیگی کے بعد تاجروں سے کوئی سوال نہ پوچھا جائے، خواجہ محبوب کارپوریٹ فارمنگ کیلئے 7 سالہ چھوٹ اور تعمیراتی شعبے سے سیکشن 7 ای کے خاتمے کا مطالبہ
اسلام آباد (کامرس رپورٹر) پاکستان بزنس فورم نے آئندہ بجٹ کے لیے ٹیکس نیٹ بڑھانے کی اہم تجاویز پیش کر دیں صدر پاکستان بزنس فورم خواجہ محبوب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس وقت بزنس کمیونٹی شدید مایوسی کا شکار ہے بجٹ میں سپر ٹیکس کو فی الفور ختم کیا جائے کیونکہ یہ عارضی طور پر لگایا گیا تھا لیکن اسے مستقل حصہ بنا دیا گیا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ کاروبار کی لاگت کم کرنے کے لیے کارپوریٹ ٹیکس میں بتدریج کمی لائی جائے تاکہ بزنس کمیونٹی کو ریلیف مل سکےخواجہ محبوب نے تجویز دی کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے تاجروں پر ماہانہ 10 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس مقرر کیا جائے اور یہ وصولی بجلی کے بلوں کے ذریعے ہونی چاہیے فکسڈ ٹیکس دینے کے بعد تاجر سے آمدن کے حوالے سے کوئی سوال نہ پوچھا جائے تاکہ حکومت اور تاجروں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہو سکے ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے کے لیے مقامی کاٹن سیڈ اور آئل کیک پر سیلز ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہےپاکستان بزنس فورم نے مطالبہ کیا کہ "گرین پاکستان انیشیٹو" کے تحت کارپوریٹ فارمنگ کے فروغ کے لیے 7 سال کی ٹیکس چھوٹ دی جائے تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری واپس لانے کے لیے سیکشن 7 ای کو ختم کیا جائے اور سیکشن 8 و 8 بی میں ضروری ترامیم کی جائیں انہوں نے مزید کہا کہ نان فائلرز کو تین سے زائد گاڑیاں رکھنے کی اجازت نہ دی جائے اور انڈر انوائسنگ روکنے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں عوام کی سرمایہ کاری محفوظ بنانے کے لیے رہائشی سوسائٹیز کو پبلک لمیٹڈ کمپنیوں پر لایا جائے
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
ملک بھر میں آٹے کے نرخوں میں غیر معمولی اضافہ، 20 کلو کا تھیلا 200 روپے تک مہنگا ہو گیا
روزنامہ قومی کردار نیوز: وفاقی ادارہ شماریات کی حالیہ دستاویزات کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتوں کو جیسے پر لگ گئے ہیں اور محض ایک ہفتے کے قلیل عرصے میں 20 کلو گرام آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 200 روپے تک کی بڑی بڑھوتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ ایک ہفتے کے دوران حیدر آباد اور لاڑکانہ میں آٹے کے نرخوں میں سب سے زیادہ 200 روپے کا اضافہ ہوا ہے جبکہ سرگودھا میں 190، سکھر میں 160 اور ملتان میں قیمتیں 133 روپے 33 پیسے تک بڑھ چکی ہیں۔ اسی طرح کراچی اور خضدار میں 100 روپے، کوئٹہ میں 90، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 67 جبکہ گوجرانوالہ اور راولپنڈی میں نرخوں میں 40 روپے تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اعداد و شمار سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس وقت ملک بھر میں آٹے کا مہنگا ترین تھیلا کراچی میں 2 ہزار 500 روپے سے زائد میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ اس کے برعکس لاہور میں سب سے کم قیمت ایک ہزار 810 روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔ دیگر شہروں کی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو کوئٹہ میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2450 روپے، حیدر آباد میں 2440، اسلام آباد میں 2373، پشاور میں 2350 جبکہ بنوں اور خضدار میں قیمت 2300 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ راولپنڈی میں آٹے کے نرخ 2347 روپے، فیصل آباد میں 2250 جبکہ سکھر اور لاڑکانہ میں آٹے کا تھیلا 2200 روپے میں دستیاب ہے۔ مزید برآں گوجرانوالہ، ملتان اور سیالکوٹ میں قیمت 2133 روپے، بہاولپور میں 2067 اور سرگودھا میں آٹے کا تھیلا 2000 روپے کا ہو چکا ہے۔ بنیادی غذائی ضرورت کی قیمتوں میں ہونے والے اس ہوشربا اضافے نے عوام کو شدید معاشی کرب اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
بھارتی آبی جارحیت، دریائے چناب میں پانی کی آمد میں بڑی کمی ریکارڈ
روزنامہ قومی کردار نیوز: بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں پانی کی آمد میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد گزشتہ روز کے مقابلے میں پانی کی آمد میں 11 ہزار 900 کیوسک کی کمی واقع ہوئی ہے۔ واپڈا کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد محض 9 ہزار کیوسک رہ گئی ہے جبکہ وہاں سے پانی کا اخراج ایک ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 20 ہزار 900 کیوسک تھی جبکہ اخراج 13 ہزار 100 کیوسک رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یکم مئی کو بھی ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 20 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ 30 اپریل کو پانی کی آمد 25 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 17 ہزار 400 کیوسک تھا۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
گیس کا بحران سنگین، ایل پی جی کی قیمتیں بھی آسمان پر پہنچ گئیں
روزنامہ قومی کردار نیوز: لاہور میں سوئی گیس کی قلت نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے جس کے باعث شہریوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے. شہر کے مختلف علاقوں بالخصوص فیروز پور روڈ پر گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں اور لوگ شدید پریشانی کا شکار ہیں. ایک طرف گیس میسر نہیں تو دوسری طرف متبادل کے طور پر استعمال ہونے والی ایل پی جی کی قیمت میں بھی ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد قیمت 430 روپے سے بڑھ کر 460 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے. شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ باقاعدگی سے گیس کے بل ادا کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں گیس فراہم نہیں کی جا رہی، جس کی وجہ سے وہ اب مہنگے داموں ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں. عوامی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی بلا تعطل فراہمی کو فی الفور یقینی بنایا جائے اور ایل پی جی کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافے پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ مہنگائی کے اس طوفان میں پسے ہوئے سفید پوش طبقے کو کچھ ریلیف مل سکے
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
پنجاب پولیس کو سائبر کرائم اور آن لائن ہراسگی پر براہ راست ایکشن کا اختیار مل گیا
وزیر اعلیٰ پنجاب کا تاریخی فیصلہ، ڈیجیٹل جرائم کی روک تھام کے لیے 'سی آئی ڈی' کی طرز پر نیا سائبر محکمہ بنانے کی منظوری۔
آن لائن ہراسگی کا شکار افراد اب براہ راست تھانے جا سکیں گے، نئے اختیارات سے خواتین اور نوجوانوں کو بہترین تحفظ ملے گا، پولیس حکام۔
لاہور (ڈیلی قومی کردار ڈیجیٹل): وزیر اعلیٰ پنجاب نے سوشل میڈیا پر خواتین اور بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل جرائم اور جنسی ہراسگی کی روک تھام کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ اس اہم اقدام کے تحت، اب پنجاب پولیس کو سائبر کرائم اور ہراسگی کے کیسز میں براہ راست مقدمات درج کرنے اور کارروائی کرنے کی باقاعدہ اجازت مل گئی ہے تفصیلات کے مطابق، انٹرنیٹ پر ہونے والے جرائم کے موثر سدباب کے لیے سی آئی ڈی (CID) کی طرز پر ایک نیا اور جدید محکمہ قائم کرنے کی اصولی منظوری دے دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل مقامی پولیس کو سائبر کرائم کے معاملات میں کارروائی سے روک دیا گیا تھا، تاہم اب انہیں آن لائن بلیک میلنگ، جنسی ہراسگی اور دیگر ڈیجیٹل جرائم کے خلاف فوری ایکشن لینے کے مکمل اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں۔پولیس حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ان نئے اختیارات کے بعد سوشل میڈیا پر ہراسگی کا شکار ہونے والے شہری اب براہ راست پولیس سے مدد طلب کر سکیں گے۔ اس نئے اور بڑے فیصلے کا بنیادی مقصد ڈیجیٹل کرائمز کا قلع قمع کرنا اور بالخصوص خواتین اور نوجوان نسل کو آن لائن دنیا میں ایک محفوظ اور بہتر ماحول فراہم کرنا ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
روٹی کی قیمت 20 روپے کرنے کی تجویز، حکومت کا فوری اضافے سے انکار؛ ڈیڈ لاک برقرار۔
مہنگائی کے باعث 14 روپے میں فروخت ممکن نہیں، نان روٹی ایسوسی ایشن کا موقف۔
اوپن مارکیٹ میں آٹے کا بحران سنگین، 15 کلو کا تھیلا 1650 روپے تک جا پہنچا، شہری پریشان۔
لاہور (رپورٹ) روٹی کی قیمتوں کے تعین کے معاملے پر حکومت اور نان روٹی ایسوسی ایشن کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے، جس کے باعث قیمتوں پر جاری ڈیڈ لاک مزید سنگین ہو گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق نان روٹی ایسوسی ایشن کے وفد نے وزیر اعلیٰ کی معاون خصوصی سلمیٰ بٹ سے ملاقات کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث 14 روپے میں روٹی فروخت کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ ایسوسی ایشن نے روٹی کی سرکاری قیمت 20 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم حکومتی نمائندوں نے عوامی مفاد کے پیش نظر اس مطالبے کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔دوسری جانب شہر میں آٹے کا بحران بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں 10 اور 20 کلو آٹے کے تھیلے غائب ہو چکے ہیں، جبکہ فلور ملز کی من مانیوں کی وجہ سے 15 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1450 روپے سے بڑھ کر 1650 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ کریانہ مرچنٹس کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں سرکاری آٹے کی سپلائی مکمل طور پر منقطع ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے شہری مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں روٹی پہلے ہی 15 سے 20 روپے کے درمیان فروخت کی جا رہی ہے، جس نے غریب عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
پنجاب بورڈ برائے سرمایہ کاری اور ڈونگ جن پاور ٹیک کے درمیان مفاہمت کییادداشت پر دستخط۔
خشک بیٹریوں کی مقامی سطح پر تیاری سے توانائی کے شعبے میں بڑی تبدیلیآئے گی۔
صوبے کے صنعتی منظر نامے میں اپنی نوعیت کی پہلی اور اہم سرمایہ کاری۔
لاہور (رپورٹ): پنجاب میں صنعتی ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایک چینی کمپنی نے 15 ملین ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری سے نیا پلانٹ لگانے کا اعلان کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق، پنجاب بورڈ برائے سرمایہ کاری و تجارت اور چینی کمپنی 'ڈونگ جن پاور ٹیک لمیٹڈ' کے درمیان ایک مفاہمتی معاہدے (MoU) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں پنجاب بورڈ برائے سرمایہ کاری کے دفتر میں ایک باقاعدہ تقریب منعقد ہوئی، جس میں دونوں اداروں کے سربراہان نے معاہدے کی دستاویزات پر دستخط کیے۔معاہدے کے تحت ڈونگ جن پاور ٹیک پنجاب میں خشک بیٹریوں کی تیاری کا جدید ترین پلانٹ قائم کرے گی۔ اس منصوبے سے نہ صرف مقامی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ توانائی کے میدان میں اس نوعیت کی سرمایہ کاری صوبے کے صنعتی منظر نامے کو تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
فوڈ سیفٹی ٹیموں کا بڑا کریک ڈاؤن؛ مضرِ صحت رنگ، کیمیکلز اور گندہ خام مال برآمد کر کے تلف کر دیا گیا۔ پروسیسنگ ایریا میں کھڑا گندا پانی اور مکھیوں کی بھرمار؛ ملازمین کے میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی موجود نہ تھے۔ ملاوٹ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی، ڈی جی فوڈ اتھارٹی۔
لاہور (رپورٹ): پنجاب فوڈ اتھارٹی نے راوی ٹاؤن کے علاقے میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بچوں کے لیے مضرِ صحت ٹافیاں اور گولیاں تیار کرنے والا یونٹ سیل کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آپریشنز اسد اللہ کی سربراہی میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے راوی ٹاؤن میں چھاپہ مارا جہاں غیر معیاری اور ناقابلِ استعمال خام مال سے ٹافیاں تیار کی جا رہی تھیں۔ کارروائی کے دوران 8 ہزار کلو گرام سے زائد تیار شدہ مضرِ صحت ٹافیاں اور بڑی مقدار میں کھلے رنگ و کیمیکلز برآمد کر کے موقع پر ہی تلف کر دیے گئے۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی سید موسیٰ رضا نے بتایا کہ فیکٹری کے پروسیسنگ ایریا میں صفائی کے انتہائی ناقص انتظامات پائے گئے؛ وہاں گندا پانی کھڑا تھا اور اشیاء پر مکھیوں کی بھرمار تھی۔ مزید برآں، کام کرنے والے ملازمین کے پاس میڈیکل اور ٹریننگ سرٹیفکیٹس کا ریکارڈ بھی موجود نہیں تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے ملاوٹ مافیا کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رکھی جائیں گی۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
مقامی سطح پر تیار کردہ 'فتح ٹو' (Fatah-II) میزائل کا شاندار اور کامیاب تجربہ
جدید ترین ایویونکس اور نیوی گیشن ٹیکنالوجی سے لیس میزائل ہدف کو درستگی سے نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
تجربے کا مقصد میزائل کے مختلف تکنیکی پہلوؤں کی توثیق اور کارکردگی کا جائزہ لینا تھا، آئی ایس پی آر (ISPR)
صدر مملکت، وزیراعظم اور اعلیٰ عسکری قیادت کی جانب سے سائنسدانوں اور انجینئرز کو اس عظیم کامیابی پر مبارکباد۔
راولپنڈی (نیوز ڈیسک) پاکستان نے اپنے دفاع کو مزید ناقابل تسخیر بناتے ہوئے مقامی سطح پر تیار کردہ 'فتح ٹو' (Fatah-II) میزائل کا کامیاب آزمائشی تجربہ کر لیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ تجربہ پاکستان آرمی کی راکٹ فورس کمانڈ کی جانب سے کیا گیا۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ 'فتح ٹو' میزائل دور حاضر کی جدید ترین ایویونکس اور اعلیٰ ترین نیوی گیشنل ٹیکنالوجی سے آراستہ ہے۔ اس حالیہ آزمائشی تجربے کا بنیادی مقصد میزائل کے مختلف تکنیکی پہلوؤں کی توثیق کرنا اور ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے والے نظام (ایکیوریسی سسٹم) کی کارکردگی کا عملی جائزہ لینا تھا۔اس اہم تجربے کا مشاہدہ کرنے کے لیے اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ اور پاک فوج کے سینئر افسران کے علاوہ اسٹریٹجک اداروں سے وابستہ نامور سائنسدان اور انجینئرز بھی موجود تھے۔ فورم میں شریک تمام حکام نے فتح سیریز کے اس مقامی میزائل کے کامیاب تربیتی تجربے پر انتہائی اطمینان کا اظہار کیا اور ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔عسکری ترجمان کے مطابق اس شاندار دفاعی کامیابی پر صدر مملکت، وزیراعظم پاکستان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور مسلح افواج کے سربراہان نے بھی مسرت کا اظہار کیا ہے۔ ملکی اور عسکری قیادت نے اس میزائل مشق کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کرنے والے تمام سائنسدانوں، انجینئرز اور متعلقہ افرادی قوت کی پیشہ ورانہ مہارت، انتھک لگن اور ملکی دفاع کے لیے ان کے پختہ عزم کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
نیپرا کا سولر صارفین کو بڑا ریلیف: 25 کلو واٹ تک کے سسٹم پر لائسنس کی شرط ختم
پاور ڈویژن کی درخواست منظور، نیپرا کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
25 کلو واٹ سے زائد کے سولر سسٹم کے لیے لائسنس فیس ایک ہزار روپے فی کلو واٹ مقرر کر دی گئی۔
لیسکو سمیت بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں سے لائسنس کے اجراء کے اختیارات واپس لے لیے گئے۔
معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے نیٹ میٹرنگ صارفین کے گرد گھیرا تنگ، اضافی یونٹس پر ریلیف (کریڈٹ) بند۔
لاہور/گوجرانوالہ (نیوز ڈیسک) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سولر انرجی استعمال کرنے والے شہریوں کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے 25 کلو واٹ یا اس سے کم صلاحیت کے حامل نیٹ بلنگ (سولر) صارفین کے لیے لائسنس کے حصول کی شرط باقاعدہ طور پر ختم کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، پاور ڈویژن نے نیپرا کو خط لکھ کر 25 کلو واٹ تک کے صارفین کو لائسنس سے استثنیٰ دینے کی سفارش کی تھی، جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے نیپرا نے ترمیمی نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد لیسکو (LESCO) سمیت بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں سے لائسنس جاری کرنے کے اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں۔ البتہ، 25 کلو واٹ سے بڑے سولر سسٹمز کی تنصیب پر ایک ہزار روپے فی کلو واٹ کے حساب سے لائسنس فیس ادا کرنا ہوگی۔دوسری جانب، نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے منظور شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے صارفین کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے ایسے صارفین کا ڈیٹا مرتب کر کے بجلی کے بلوں پر شائع کرنا شروع کر دیا ہے جو اپنے منظور شدہ لوڈ اور معاہدے سے تجاوز کر کے اضافی بجلی پیدا کر رہے تھے۔وفاقی حکومت کی سخت ہدایات پر ایکشن لیتے ہوئے، لیسکو اور دیگر کمپنیوں نے ایکسپورٹ ہونے والے غیر قانونی اضافی یونٹس پر ملنے والا ریلیف (کریڈٹ) فوری طور پر بند کر دیا ہے۔ نئے ضوابط کے تحت، صارفین کو صرف ایم ڈی آئی (MDI) ریڈنگ کے مطابق معاہدے کے اندر رہتے ہوئے پیدا کی گئی بجلی پر ہی بلوں میں ریلیف دیا جا رہا ہے، جبکہ معاہدے کے برعکس پیدا ہونے والے اضافی یونٹس بغیر کسی مالی فائدے یا کریڈٹ کے براہِ راست قومی گرڈ میں شامل کیے جا رہے ہیں۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
الیکٹرک گاڑیوں کی انڈسٹری کے لیے ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کا جامع منصوبہ فائنل
یونیورسٹیوں کے نصاب میں ای وی ٹیکنالوجی، بیٹری مینجمنٹ اور چارجنگ نیٹ ورک کی جدید تعلیم شامل کرنے کی منظوری
ریسرچ کے لیے نئی لیبارٹریز کا قیام، ریسکیو 1122 اہلکاروں کو لیتھیم بیٹری حادثات سے نمٹنے کی خصوصی تربیت دی جائے گی
لاہور (نمائندہ خصوصی) حکومتِ پنجاب نے صوبے میں الیکٹرک وہیکل (ای وی) پالیسی پر عمل درآمد کرتے ہوئے استعداد کار (کپیسٹی بلڈنگ) بڑھانے کا تفصیلی خاکہ تیار کر لیا ہے۔ اس اہم منصوبے کے تحت اعلیٰ تعلیمی اداروں اور جامعات میں نیو انرجی وہیکلز، بیٹری کے نظام اور چارجنگ انفراسٹرکچر سے جڑے نئے اور جدید کورسز پڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔محکمہ ہائر ایجوکیشن کی معاونت سے یونیورسٹیوں کی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی جدید تعلیم کو فروغ دیا جائے گا۔ مزید برآں، بیٹری مینجمنٹ، پاور الیکٹرانکس اور الیکٹرک موٹرز کی ڈیزائننگ کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے ایڈوانسڈ تربیتی پروگرامز کا آغاز بھی کیا جا رہا ہے۔منصوبے کے مطابق، جامعات اور تحقیقی اداروں کے باہمی اشتراک سے ریسرچ اور تکنیکی مہارتوں کو پروان چڑھایا جائے گا۔ ٹیوٹا (TEVTA) کے زیرِ انتظام مکینکس اور ٹیکنیشنز کے لیے خصوصی ووکیشنل ٹریننگ شروع کی جائے گی اور پورے صوبے میں جدید سہولیات سے لیس نئے ٹریننگ سینٹرز بنائے جائیں گے۔اس کے علاوہ، محکمہ توانائی کے تعاون سے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے لیے نئی ٹیسٹنگ لیبز قائم کی جائیں گی۔ ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کو لیتھیم آئن بیٹریوں میں آگ لگنے یا دیگر حادثات کی صورت میں ہنگامی بنیادوں پر نمٹنے کے لیے الگ حفاظتی پروٹوکولز اور سیفٹی ٹریننگ دی جائےی۔اس جامع پلان کی بدولت نہ صرف الیکٹرک وہیکل سیکٹر کے لیے ماہر اور ہنرمند افرادی قوت میسر آئے گی بلکہ روزگار کے وسیع تر نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ماحول دوست سفری سہولیات (گرین ٹرانسپورٹ) کو فروغ ملنے سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
گداگروں کیلئے باوقار روزگار کا پلان، نئے یتیم خانے بھی بنیں گے، مریم نواز نے اعداد و شمار طلب کر لیے
وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس، ’مریم کو بتائیں‘ پروگرام میں مزید 50 ہزار افراد شامل کرنے کا فیصلہ، زکوٰۃ فنڈز سے ادویات فراہمی کا نظام ڈیجیٹل کرنے کا حکم
خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی بھرپور مدد کریں گے، محکمہ سوشل ویلفیئر کو یورپی طرز پر عوام دوست بنایا جائے گا: مریم نواز شریف
لاہور (قومی کردار نیوز) پنجاب حکومت نے صوبے میں سماجی بہبود کے بڑے منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت محکمہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کے خصوصی اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ مختصر عرصے میں راشن، ہمت اور مینارٹی کارڈز کے ذریعے اب تک 16 لاکھ سے زائد شہری مستفید ہو چکے ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ’مریم کو بتائیں‘ مہم کے تحت مزید 50 ہزار افراد کو راشن کارڈ پروگرام میں شامل کیا جائے گا، واضح رہے کہ اس وقت 14 لاکھ سے زائد افراد اس اسکیم سے ماہانہ مالی معاونت حاصل کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے صوبے بھر میں گداگروں کی باقاعدہ میپنگ اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کا ٹاسک دیتے ہوئے ان کے باوقار روزگار کا پلان طلب کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بے سہارا اور لاوارث کمسن بچوں کی کفالت کے لیے باقاعدہ یتیم خانے قائم کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ چیف منسٹر ہمت کارڈ کے ذریعے اب تک ایک لاکھ سے زائد خصوصی افراد کو مالی مدد دی گئی ہے اور رواں مالی سال میں مزید 2 لاکھ افراد کو یہ سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ مینارٹی کارڈ کے ذریعے ایک لاکھ مستحق اقلیتی افراد کو ہر سہ ماہی 10 ہزار 500 روپے مل رہے ہیں۔مریم نواز نے 'دھی رانی پروگرام' کے تحت 5 ہزار اجتماعی شادیوں کی تقریبات کا جائزہ لیا اور اس ہدف کو 9 ہزار تک بڑھا کر مزید مستحق خاندانوں کو شامل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے 16 ہزار مستحقین کو فراہم کردہ وہیل چیئرز اور دیگر معاون آلات کی صفائی اور سروسنگ کی سہولت دینے کا بھی اعلان کیا۔ علاوہ ازیں، مستحقین کو زکوٰۃ فنڈز سے ادویات کی فراہمی کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور عوام کی سہولت کے لیے محکمہ سوشل ویلفیئر کی خصوصی ہیلپ لائن '1737' قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ صنعت زار کی بہتری کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کو شامل کیا جائے گا اور خواتین و بچوں کی فلاح کے لیے مستند این جی اوز سے معاونت لی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کا اصل مقصد عام آدمی کی فلاح و بہبود ہے اور محکمہ سوشل ویلفیئر کو یورپی ممالک کی طرز پر عوام دوست بنایا جائے گا تاکہ محروم طبقے کی بحالی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جا سکے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
18 سال سے کم عمر میں شادی پر سزا کا بل منظور
سپیکر ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی اجلاس میں قانون سازی کے ساتھ مختلف معاملات پر گرما گرم بحث
بعض ارکان کے اعتراضات کے باوجود چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا
لاہور (قومی کردار نیوز) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اہم قانون سازی کے ساتھ ساتھ وقفہ سوالات اور مختلف معاملات پر گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی، کم عمری کی شادیوں کے خلاف بل پر حکومتی و اپوزیشن ارکان کے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی جس کے بعد چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس کا مرکزی نکتہ کم عمری کی شادیوں سے متعلق ترمیمی بل رہا جس پر تفصیلی بحث کی گئی۔ وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کم عمری کی شادیوں کو بچیوں کی صحت اور تعلیم کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچیوں کی کم عمری میں بھیڑ بکریوں کی طرح شادی کروا دی جاتی ہے۔ بعض ارکان نے بل پر اعتراضات بھی اٹھائے، حکومتی رکن ذوالفقار علی نے موقف اختیار کیا کہ اگر کوئی 18 سال سے پہلے شادی کرنا چاہتا ہے تو اسے عدالت سے اجازت لینے کا حق ہونا چاہیے، بل کو اقدار سے اوپر نہ لے جایا جائے۔ تاہم تفصیلی بحث کے بعد بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ اجلاس میں وزیر معدنیات شیر علی گورچانی نے پی ٹی آئی دور میں پنک سالٹ کی زمینیں من پسند افراد کو کوڑیوں کے بھاؤ دینے کا الزام عائد کیا، جبکہ اپوزیشن رکن میجر (ر) اقبال خٹک نے اپنے علاقے میں چیکنگ کے نام پر شہریوں کو پریشان کرنے کی شکایت کی۔ بعد ازاں پنجاب اسمبلی کا اجلاس بروز منگل دوپہر 2 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
جنوبی وزیرستان میں افغان دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی جوابی کارروائی میں متعدد چوکیاں تباہ
فتنہ الخوارج کی بلااشتعال فائرنگ سے 3 شہری زخمی، سول آبادی کو نشانہ بنانے پر مقامی افراد کی شدید مذمت، صدر اور وزیراعظم کا فورسز کو خراج تحسین
پاک فوج نے جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ کے گاؤں زلول خیل میں افغان فورسز کی جانب سے کی جانے والی بلااشتعال فائرنگ اور دراندازی کی کوشش کو بھرپور جوابی کارروائی سے ناکام بنا دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے سرحد پار سے دراندازی کی کوشش کی جسے پاک فوج کے مستعد جوانوں نے بروقت اور موثر حکمت عملی سے پسپا کر دیا۔ اپنی اس ناکامی پر بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر افغان طالبان نے شہری آبادی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں دو خواتین سمیت تین عام شہری زخمی ہو گئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔پاک فوج کی جانب سے جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے سرحد پر موجود متعدد افغان پوسٹوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ ملکی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا اور کسی بھی قسم کی دراندازی یا جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب مقامی آبادی نے نہتے شہریوں پر افغان طالبان کی فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے موثر جوابی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثناء، صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جنوبی وزیرستان میں خوارجیوں کی دراندازی کی اس مذموم کوشش کو ناکام بنانے پر پاک فوج کے جوانوں کی بہادری اور فرض شناسی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
25 کلو واٹ تک کے سولر پینل صارفین کے لیے بڑی خوشخبری: لائسنس فیس کے خاتمے کی سفارش
وزیر توانائی کی ہدایت پر پاور ڈویژن کا نیپرا کو مراسلہ، گھریلو صارفین کے لیے پرانا اور آسان طریقہ کار بحال کرنے کا مطالبہ
نئے قوانین کے تحت چھوٹے سولر سسٹمز کی منظوری پر بھی فیس عائد کر دی گئی تھی، جس سے سستی توانائی کے فروغ میں رکاوٹ کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا
اسلام آباد (قومی کردار نیوز) وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی خصوصی ہدایت پر کارروائی کرتے ہوئے، پاور ڈویژن نے نیپرا (NEPRA) کو 25 کلو واٹ تک کے چھوٹے سولر صارفین کے لیے لائسنس کی شرط اور درخواست فیس ختم کرنے کے حوالے سے باضابطہ مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔ اتوار کے روز وزارت توانائی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، نیپرا پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے 2015 والے پرانے ضوابط کو فوری بحال کرے۔تفصیلات کے مطابق، 2015 کی ریگولیشنز کے تحت 25 کلو واٹ یا اس سے کم صلاحیت کا سولر سسٹم لگانے والے صارفین کے لیے کسی قسم کے لائسنس کی ضرورت نہیں تھی۔ اس وقت بجلی کی مقامی تقسیم کار کمپنیاں بغیر کسی فیس کے براہ راست منظوری دے دیتی تھیں، جس سے عام گھریلو صارفین کی بھرپور حوصلہ افزائی ہوتی تھی۔ لیکن حال ہی میں نیپرا کے متعارف کردہ نئے "پروزیومر ریگولیشنز" نے چھوٹے پلانٹس کی منظوری کا اختیار بھی مرکز (نیپرا) کے پاس کر دیا اور منظوری کے لیے باقاعدہ فیس لاگو کر دی۔اس پالیسی تبدیلی پر پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) سمیت پاکستان سولر ایسوسی ایشن، پاکستان آلٹرنیٹو انرجی ایسوسی ایشن اور دیگر قابل تجدید توانائی کی کمپنیوں کی جانب سے عوامی سماعت کے دوران شدید اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ سٹیک ہولڈرز کا موقف ہے کہ تقسیم کار کمپنیوں سے یہ اختیار واپس لینے کے نتیجے میں عام صارفین کے لیے غیر ضروری کاغذی اور بیوروکریٹک رکاوٹیں کھڑی ہو رہی ہیں۔پاور ڈویژن نے نیپرا کو اپنے مراسلے میں واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر 25 کلو واٹ تک کے سولر سسٹمز کے لیے فوری طور پر پرانا، آسان اور مفت طریقہ کار بحال نہ کیا گیا تو قومی سطح پر قابل تجدید اور سستی توانائی کو فروغ دینے کے اہداف اور کوششوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
غیر معیاری جوس بنانے والی فیکٹری سیل، ہزاروں لیٹر مال ضبط
پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائی، 3744 لیٹر ناقص مشروبات قبضے میں لے لیے، خلاف ورزی پر 20 مزید فیکٹریوں کو جرمانے
لاہور (قومی کردار نیوز) ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی سید موسیٰ رضا کے احکامات پر فوڈ سیفٹی ٹیموں نے ملتان روڈ پر واقع سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے مشروبات بنانے والے ایک مشہور کارخانے کو سربمہر کر دیا۔ چھاپے کے دوران فیکٹری سے 3 ہزار 744 لیٹر غیر معیاری اور مضر صحت جوس برآمد کر کے ضبط کر لیا گیا، مزید برآں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے 20 دیگر کارخانوں پر بھی بھاری جرمانے عائد کیے گئے۔حکام کے مطابق، مذکورہ فیکٹری میں تیار کیے جانے والے جوس کا لیبل فوڈ اتھارٹی سے منظور شدہ نہیں تھا اور وہاں کام کرنے والے عملے کے پاس لازمی میڈیکل اور ٹریننگ سرٹیفکیٹس بھی عدم موجود تھے۔ اس موقع پر ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ گرمیوں کے سیزن کو مدنظر رکھتے ہوئے مشروبات کی جانچ پڑتال کے لیے ایک خصوصی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو صحت بخش اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ملاوٹ کرنے والے مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت اور بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
ٹریفک قوانین پر سختی: زگ زیگ ڈرائیونگ پر موٹر سائیکل 3 دن کیلئے بند کرنے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ مریم نواز کا لین اور لائن ڈسپلن پر زیرو ٹالرنس کا حکم، لاہور کی اہم شاہراہوں کو ماڈل بنانے کی ہدایت
لاہور (قومی کردار نیوز) پنجاب بھر بالخصوص لاہور میں ٹریفک کی روانی اور نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے کئی سخت اور اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سڑکوں پر زگ زیگ (خطرناک انداز میں) ڈرائیونگ کرنے والے موٹر سائیکل سواروں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں ان کی موٹر سائیکلیں تین روز تک تھانے میں بند رکھی جائیں گی۔اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ کو ٹریفک کے مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مریم نواز شریف نے احکامات جاری کیے کہ لاہور سمیت صوبے کے تمام بڑے شہروں میں لین اور لائن کے ڈسپلن کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ون وے کی خلاف ورزی اور سڑک کنارے غیر قانونی پارکنگ پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کی واضح ہدایت کی۔علاوہ ازیں، سی ٹی او لاہور کو شہر کے ٹریفک نظام کو مثالی بنانے کے لیے واضح اہداف دیے گئے ہیں۔ ٹریفک پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ پٹرولنگ گاڑیوں پر نصب کیمروں کی مدد سے روڈ ڈسپلن کی کڑی نگرانی کرے۔ اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ٹریفک پولیس نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران قوانین کی خلاف ورزی پر پانچ لاکھ سے زیادہ چالان کیے ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زائد گاڑیوں کو تحویل میں لیا گیا ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور میں 150 ایکڑ رقبے پر محیط عظیم الشان 'فلم سٹی' بنانے کا فیصلہ
یہ منصوبہ پاکستان کا پہلا مکمل 'اینڈ ٹو اینڈ' میڈیا پروڈکشن ہب ہوگا، فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی فراہم کی جائے گی
فلم سٹی میں عالمی معیار کے سٹوڈیوز، ساؤنڈ سٹیجز، پوسٹ پروڈکشن لیبز، شوٹنگ کے لیے متنوع سیٹس اور ایک جھیل بھی بنائی جائے گی: مریم نواز
لاہور (قومی کردار نیوز) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور میں نواز شریف آئی ٹی سٹی کے اندر 150 ایکڑ اراضی پر مشتمل ایک میگا 'پنجاب فلم سٹی' پراجیکٹ شروع کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ اس تاریخی اور بڑے منصوبے کی بدولت ہزاروں افراد کے لیے براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔وزیر اعلیٰ کے مطابق، یہ شاندار منصوبہ ملک کا اولین 'اینڈ ٹو اینڈ' میڈیا پروڈکشن سینٹر ثابت ہوگا جہاں فلم، ٹیلی ویژن، اینیمیشن اور ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق تمام جدید سہولیات ایک ہی چھت تلے میسر ہوں گی۔ اس اقدام سے وی ایف ایکس (VFX) اور پوسٹ پروڈکشن جیسے تکنیکی کاموں کے لیے غیر ملکی انحصار میں نمایاں کمی آئے گی۔اس عظیم الشان منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں جدید ترین سٹوڈیوز، ساؤنڈ سٹیجز اور پوسٹ پروڈکشن لیبارٹریز کے علاوہ شوٹنگ کی غرض سے مختلف سیٹس اور ایک دلکش مرکزی جھیل بھی تعمیر کی جائے گی۔ مزید برآں، بین الاقوامی تقریبات اور ایوارڈ شوز کے انعقاد کے لیے کنونشن ہالز، میڈیا ٹریننگ مراکز اور فلم و میوزک سکولز بھی اس فلم سٹی کا اہم حصہ ہوں گے۔مریم نواز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ جدید فلم سٹی اینیمیشن اور گیمنگ سمیت ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور تخلیقی معیشت کو مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پراجیکٹ ٹیلنٹ، ٹیکنالوجی اور کاروبار کو ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کرے گا اور اسے مختلف مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لیسکو میں ہوشربا انکشاف: بجلی کے میٹروں کی جعلی ریڈنگ اور بوگس بلنگ کا پردہ چاک
غلط بلنگ سے کمپنی کو بھاری نقصان کا سامنا، مختلف لوڈ کے حساب سے اہلکاروں اور افسران کی ذمہ داریاں سخت کر دی گئیں
لاہور (قومی کردار نیوز) لیسکو (لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی) میں بجلی کے بل تیار کرنے کے لیے موبائل کے ذریعے کی جانے والی میٹر ریڈنگ میں جعلی تصاویر کے استعمال کا بڑا سکینڈل سامنے آیا ہے۔ صارفین کے بلوں میں دانستہ طور پر "اوور بلنگ" (ضرورت سے زیادہ بل بھیجنا) اور "لیس بلنگ" (کم بل بنانا) کے شواہد ملنے پر اعلیٰ حکام کی جانب سے متعلقہ افسران کو تنبیہی مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے۔جاری کردہ مراسلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جعلی تصاویر کی بنیاد پر بلوں کا اجراء کیا جا رہا ہے اور آڈیٹرز میٹر ریڈرز کے علم میں لائے بغیر ہی تصاویر میں ردوبدل کر رہے ہیں۔ اس سنگین جعلسازی کے باعث لیسکو کی مالی ریکوری شدید متاثر ہو رہی ہے اور لائن لاسز کا گراف بھی بڑھ رہا ہے۔ مراسلے میں سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ میٹر کی تصویر میں کسی بھی قسم کی ٹیمپرنگ یا جعلسازی کا براہِ راست ذمہ دار متعلقہ میٹر ریڈر کو ٹھہرایا جائے گا۔نئی ہدایات کے مطابق شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے میٹر ریڈنگ کی ذمہ داریوں کو لوڈ کے حساب سے تقسیم کر دیا گیا ہے: 20 کلو واٹ تک لوڈ: بلنگ اور ریڈنگ کی مکمل ذمہ داری 'میٹر ریڈر' پر ہوگی۔20 سے 40 کلو واٹ تک لوڈ: اس کیٹگری کے کنکشنز کی ریڈنگ 'میٹر سپر وائزر' اور 'لائن سپرنٹنڈنٹ (ایل ایس)' کی ذمہ داری ہوگی۔40 سے 500 کلو واٹ تک لوڈ: متعلقہ ایس ڈی او (SDO) خود بطور میٹر ریڈر اس کی ریڈنگ کا پابند ہوگا۔500 کلو واٹ سے زائد لوڈ: ان بڑے اور ہیوی کنکشنز کی ریڈنگ کی تمام تر ذمہ داری 'ایکسین' (XEN) پر عائد کی گئی ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
امن مذاکرات کے سلسلے میں جڑواں شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، ریڈ زون سیل اور پبلک ٹرانسپورٹ مکمل بند
اسلام آباد ( قومی کردار نیوز بیورو): مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور امن مذاکرات کے حوالے سے پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کا مرکز بن گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے مابین ممکنہ مذاکرات کے سلسلے میں اعلیٰ سطحی وفود کی اسلام آباد آمد کا سلسلہ جاری ہے۔سفارتی پیش رفت: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مختصر دورے پر اپنے وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ دورے کے دوران انہوں نے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت سے خطے میں امن اور جنگ بندی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دریں اثنا، امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اور وفد کی بھی اسلام آباد آمد متوقع ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی طویل المدتی معاہدے میں جلد بازی نہیں کریں گے، تاہم سخت پابندیوں کے ذریعے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات: ان اہم عالمی شخصیات کی آمد کے پیشِ نظر اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی انتہائی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون اور ملحقہ علاقوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ میٹرو بس سروس سمیت ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے، جبکہ سرکاری اور نجی دفاتر کو 'ورک فرام ہوم' کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ٹریفک پولیس نے شہریوں کی سہولت کے لیے متبادل راستوں کا ٹریفک پلان بھی جاری کر دیا ہے۔
سرکاری نوکریوں کی منسوخی، اسسٹنٹس، کلرکس، ڈسپنسرز، ویکسینیٹرز، لیب ٹیکنیشنز اور درجہ چہارم کا عملہ متاثرین میں شامل
محکمہ صحت میں مکمل طور پر ٹھیکیداری نظام لانے کا فیصلہ، دیہی علاقوں میں طبی سہولیات کا فقدان بڑھنے کا خدشہ: طبی ماہرین
لاہور (نمائندہ خصوصی): پنجاب حکومت نے اخراجات میں کمی کی پالیسی کے تحت محکمہ صحت میں سرکاری ملازمتوں کو بتدریج ختم کرنے اور مکمل طور پر ٹھیکیداری (آؤٹ سورسنگ) نظام نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے محکمہ صحت میں گریڈ 1 سے لے کر 16 تک کی 10 ہزار 909 خالی پوسٹوں کو باقاعدہ طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔محکمہ صحت کے نوٹیفکیشن کے مطابق، جن آسامیوں کا خاتمہ کیا گیا ہے ان میں اسسٹنٹ، جونیئر کلرک، ڈرائیور، نائب قاصد اور وارڈ سرونٹ جیسی انتظامی و معاون پوسٹوں کے علاوہ لیبارٹری ٹیکنیشن، ڈسپنسر، ویکسینیٹر اور دیگر اہم فیلڈ سٹاف شامل ہے۔ یہ تمام آسامیاں صوبے بھر کے مختلف اضلاع میں واقع سرکاری ہسپتالوں، بنیادی مراکزِ صحت (بی ایچ یوز) اور دیہی مراکزِ صحت (آر ایچ سیز) میں کافی عرصے سے خالی پڑی تھیں۔تشویش اور ماہرین کی رائے: حکومت کے اس غیر معمولی فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ پنجاب کے ہسپتالوں میں پہلے ہی عملے کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔ ان خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے بجائے ختم کر دینے اور تمام امور کو ٹھیکے پر دینے سے خاص طور پر دیہی علاقوں میں عوام کے لیے صحت کی بنیادی سہولیات مزید تنزلی کا شکار ہو سکتی ہیں۔مزید برآں، ماہرین نے اس بات کی نشاندہی بھی کی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں سرکاری بھرتیوں کے دروازے بند ہونے سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوں گے، جس سے صوبے میں بے روزگاری کی شرح میں اضافے کا واضح امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومتی فیصلے کے بعد اب محکمہ صحت کے تمام تر معاملات ٹھیکیداری نظام کے تحت ہی چلائے جائیں گے۔
پیٹرول اور ڈیزل دونوں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر مہنگے، نئی قیمتوں کا اطلاق کر دیا گیا
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی): حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈال دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں فی لیٹر 26 روپے 77 پیسے کا یکساں اضافہ کیا گیا ہے۔اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت بڑھ کر 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق گزشتہ رات 12 بجے سے ہو چکا ہے۔عالمی حالات اور حکومتی موقف: وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ خطے کی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان پر بھی پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ اور عالمی شراکت داروں سے معاہدوں کے باعث حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ منتقل کرنے کے لیے یہ اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کا بوجھ جس قدر ممکن ہوا خود برداشت کیا، وفاقی حکومت سمیت تمام صوبائی حکومتوں نے عوام کو تاریخی ریلیف پیکیج دیا۔ وفاقی وزیر نے دعا کی کہ خطے میں جلد امن کے حصول میں پیش رفت ہو تاکہ عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
360 ڈگری کیمروں سے لیس سمارٹ وین 100 میٹر کے فاصلے سے اشتہاریوں اور قانون شکنوں کو پہچان لے گی
لاہور (نمائندہ خصوصی): پنجاب پولیس نے شاہراہوں پر نظم و ضبط برقرار رکھنے اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے جدید ترین 'سمارٹ کار' متعارف کروانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد جعلی نمبر پلیٹس، ای چالان کی عدم ادائیگی، اوور لوڈنگ اور روپوش اشتہاریوں کی خودکار طریقے سے نشاندہی کرنا ہے۔
منصوبے کی اہم خصوصیات:جدید مانیٹرنگ: اس سمارٹ وین میں 360 ڈگری پر گھومنے والے کیمرے نصب ہوں گے جو 100 میٹر کے دائرے میں موجود گاڑیوں اور افراد کا ڈیٹا فوری چیک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔سیف سٹی سے الحاق: گاڑی کو براہِ راست سیف سٹی کے مرکزی نظام سے منسلک کیا جائے گا، جس سے کسی بھی مشکوک سرگرمی یا قانون شکنی پر فوری 'الرٹ' جاری ہوگا۔ماحول دوست اقدام: ایندھن کے اخراجات میں کمی لانے کے لیے پولیس آئی وینز کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تیاری اور لگت: ایڈیشنل آئی جی لاجسٹک اینڈ پروکیورمنٹ، فواد الدین قریشی کی نگرانی میں پہلی گاڑی کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ ایک سمارٹ وین کی مجموعی لاگت تمام تر ضروری آلات سمیت تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ہوگی۔وزیر اعلیٰ پنجاب کو اگلے ہفتے پہلی گاڑی معائنے اور منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔ منظوری ملتے ہی لاہور کی ماڈل شاہراہوں سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں ایک سے تین گاڑیاں فراہم کر دی جائیں گی، جس سے ٹریفک مینجمنٹ اور اشتہاریوں کی گرفتاری میں بڑی پیش رفت متوقع ہے۔
لاہور (قومی کردار نیوز): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں زرعی انقلاب اور معاشی خوشحالی کے لیے "اپنی زمین، اپنی محنت، اپنی فصل" کے وژن کے تحت "اپنا کھیت، اپنا روزگار" سکیم کے پورٹل کا باقاعدہ سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت خوش نصیب امیدواروں کو زراعت کے لیے 25 لاکھ سے 40 لاکھ روپے تک کی زرعی زمین فراہم کی جائے گی۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے بریفنگ میں بتایا کہ کامیاب افراد کو فی ایکڑ 50 ہزار سے ڈھائی لاکھ روپے تک کی ون ٹائم گرانٹ بھی ملے گی، جبکہ پانی کی سہولت کے ساتھ 1 لاکھ 24 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ 10 سال کے لیے بے روزگار کاشتکاروں کو دیا جائے گا۔شیڈول کے مطابق امیدوار یکم جون سے 8 جون تک ڈپٹی کمشنر کے پاس اپیلیں جمع کرا سکیں گے، جس کے بعد 19 جون کو حتمی فہرستیں جاری ہوں گی اور 30 جون سے زمینوں کی الاٹمنٹ کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں، کتب کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں مریم نواز نے کہا کہ انسانی فکری تربیت کے لیے کتاب بہترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے باوجود کتاب کا مقام بلند ہے اور حکومت پنجاب نوجوانوں میں کتب بینی کے فروغ کے لیے "موبائل لائبریری" کا منصوبہ بھی متعارف کروا رہی ہے۔
لاہور (قومی کردار نیوز): لاہور ہائی کورٹ نے ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کو بلاوجہ روکنے اور تنگ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے زہریلا دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف فوری اور بھرپور کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ جسٹس شاہد کریم نے سموگ کی روک تھام سے متعلق درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ٹریفک اہلکار سڑکوں پر گروہوں کی شکل میں تو نظر آتے ہیں، مگر جہاں قانون کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہو وہاں ان کی کارکردگی صفر ہے۔دورانِ سماعت ممبر ماحولیاتی کمیشن سید کمال حیدر نے عدالت کو بتایا کہ مصروف ترین اوقات میں ٹریفک پولیس محض چالان اور جرمانے کی خاطر گاڑیوں کو روکتی ہے، جس کے نتیجے میں بدترین ٹریفک جام ہو جاتا ہے۔ عدالت نے اس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا کہ صرف سرکاری خزانہ بھرنے کے لیے عوام کی نقل و حرکت کو مفلوج کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مزید برآں، عدالت نے گوجرانوالہ ہیلو لائن میٹرو منصوبے کے لیے بڑے حجم کے درخت لگانے اور زیرِ تعمیر پروجیکٹس پر گرد و غبار سے بچاؤ کے لیے روزانہ پانی کا چھڑکاؤ کرنے کی بھی سخت ہدایت جاری کی ہے۔
لاہور (نیوز رپورٹر) پنجاب اسمبلی نے ٹریفک جرمانوں میں غیر معمولی کمی کے لیے صوبائی موٹر وہیکل (چوتھی ترمیم) آرڈیننس 2025 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے، جس کے بعد عوام کو بھاری جرمانوں سے بڑا ریلیف مل گیا ہے۔ نئی ترمیم کے تحت موٹر سائیکل کے چالان کی رقم 2 ہزار روپے سے کم کر کے کم از کم 1 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 2 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔اسی طرح کار اور جیپ کے مالکان کے لیے 5 ہزار روپے کا چالان اب کم کر کے 2 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔ رکشہ ڈرائیوروں کے لیے بھی بڑی رعایت دی گئی ہے، جن کا کم از کم چالان 1 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 3 ہزار روپے ہوگا، جبکہ سنگین خلاف ورزیوں پر یہ جرمانہ 2 ہزار روپے تک ہو سکتا ہے۔ کمرشل گاڑیوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مزدا، کوسٹر اور مسافروں والی لائٹ وہیکلز کا جرمانہ 20 ہزار سے کم کر کے 7 ہزار روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ ٹرک، بسوں اور دیگر ہیوی وہیکلز کا جرمانہ اب 20 ہزار کے بجائے 10 ہزار روپے ہوگا۔آرڈیننس کے مطابق ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر جرمانے کی شرح مختلف ہوگی، تاہم عام شہریوں اور موٹر سائیکل سواروں کو پہنچنے والے مالی بوجھ میں واضح کمی کر دی گئی ہے۔ گورنر پنجاب کی حتمی منظوری کے بعد ان نئے جرمانوں کا باقاعدہ اطلاق صوبے بھر میں کر دیا جائے گا، جس کا مقصد شہریوں کو سہولت فراہم کرنا اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کو آسان بنانا ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور (نمائندہ خصوصی) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ایک اہم ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں جرائم کی شرح میں اضافے پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے اجلاس کے شرکاء کو جرائم کے واقعات کی ویڈیوز دکھائیں اور متعلقہ پولیس افسران کی سخت سرزنش کرتے ہوئے واضح کیا کہ پولیس کو ہر قسم کی سیاسی مداخلت سے پاک کر دیا گیا ہے اور ریکارڈ بجٹ بھی فراہم کیا گیا ہے، لہذا اب پولیس کو کارکردگی دکھانا ہوگی۔مریم نواز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کو محفوظ بنانے کے لیے انتھک محنت کی گئی اور پولیس کو جدید وسائل فراہم کیے گئے، اس کے باوجود جرائم کی شرح میں اضافہ شرمناک اور فکر انگیز ہے۔ انہوں نے شیخوپورہ اور فیصل آباد سمیت دیگر اضلاع میں جرائم کنٹرول نہ ہونے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور آر پی اوز و ڈی پی اوز کو جرائم روکنے کے لیے پیشگی اقدامات کا ہدف مقرر کرتے ہوئے سی ٹی ڈی سے بھرپور تعاون کی ہدایت کی۔وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ اب 100 فیصد میرٹ پر پوسٹنگ کی جا رہی ہے اور پولیس افسران کو کسی ایم پی اے یا ایم این اے کا ڈر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اب سیاسی مداخلت بالکل صفر ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں تنبیہ کی کہ اب فرض میں کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور (نیوز ڈیسک) پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز نے طلبہ کے لیے تعلیمی سفر آسان بنانے کی خاطر ایک بڑا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امیدواروں کے لیے امتحانی مواقع کی تعداد 4 سے بڑھا کر 6 کر دی گئی ہے۔ اس نئی پالیسی کے مطابق اب طلبہ 4 سال کے عرصے کے اندر 6 مرتبہ امتحان میں شرکت کر سکیں گے۔اس فیصلے کا اطلاق پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز اور تمام گروپس پر یکساں طور پر ہوگا، جبکہ میٹرک، انٹر، اور او لیول کے ساتھ ساتھ اضافی مضامین کے امتحان دینے والے امیدوار بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تعلیمی حکام نے واضح کیا ہے کہ طلبہ کو موجودہ سلیبس کے تحت ہی امتحان دینا ہوگا۔بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ اس تاریخی فیصلے کا مقصد طلبہ کو تعلیمی میدان میں بڑا ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ وہ کسی بھی دباؤ کے بغیر اپنی کارکردگی کو بہتر بنا سکیں اور ان کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
صوبوں میں وفاقی افسران کی تعیناتیوں پر صوبائی سروس کے افسران کے تحفظات، آئینی ماہرین کی توجہ طلب کر لی
لاہور (قومی کردار نیوز) صوبائی سرکاری حلقوں میں وفاقی افسران (پی ایس پی اور پی اے ایس) کی صوبوں میں تعیناتیوں کے حوالے سے تحفظات سامنے آنے لگے ہیں۔ صوبائی افسران کے مختلف حلقوں کی جانب سے ان تعیناتیوں کو مبینہ طور پر آئین، صوبائی خودمختاری اور اٹھارہویں ترمیم کی روح سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق، صوبائی افسران کا موقف ہے کہ آئین کے آرٹیکل 141 اور 142 کی رو سے صوبائی اسامیوں پر قانون سازی، مالیاتی اور انتظامی اختیارات مکمل طور پر صوبائی اسمبلیوں اور حکومت کا حق ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت وفاقی فہرست کی تشکیلِ نو کا مقصد ہی صوبائی معاملات میں غیر ضروری مداخلت کو روکنا تھا، تاہم صوبوں میں اے ایس پی سے لے کر آئی جی تک اہم انتظامی عہدوں پر وفاقی افسران کی تعیناتیوں سے صوبائی افسران کے قانونی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔صوبائی سروس کے افسران کا موقف ہے کہ ریاست اور آئین سے وفاداری ہر سرکاری ملازم کا بنیادی فرض ہے، اور اچھی طرزِ حکمرانی کا تقاضا ہے کہ تمام محکمانہ قواعد آئینِ پاکستان 1973 کے تابع ہوں۔ ان حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پرانے سی ایس پی اور پی ایس پی رولز کے تحت جاری یہ انتظامی ڈھانچہ مبینہ طور پر صوبائی خودمختاری سے متصادم ہے، جس سے ماضی کی طرح اب بھی صوبوں میں احساسِ محرومی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔صوبائی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئینی بالادستی، گڈ گورننس اور فیڈریشن کی مضبوطی کے لیے صوبائی اسامیوں پر صوبائی افسران کو ہی تعینات کیا جائے تاکہ اختیارات کی نچلی سطح تک شفاف منتقلی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
“اس حوالے سے متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنے پر شامل کیا جائے گا۔”
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
گوجرانوالہ (نمائندہ خصوصی): تھانہ کینٹ کے علاقے کوٹلی صابو میں معمولی رنجش پر بااثر مسلح افراد نے سرِ عام فائرنگ کر کے ایک نوجوان کو شدید زخمی کر دیا، جبکہ ایک اور شہری تشدد کا نشانہ بن گیا۔ واقعے کی ایف آئی آر درج ہونے اور ملزمان کی اسلحہ سمیت تصاویر منظرِ عام پر آنے کے باوجود پولیس تاحال کسی بھی نامزد ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔واقعہ کی پس منظر:تھانہ کینٹ میں درج مقدمے کے مطابق، مدعی عدنان ولد محمد یوسف نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملزمان طلحہ، حمزہ، عثمان، فیاض اور توصیف وغیرہ نے مسلح ہو کر ان کے گھر کے باہر بیٹھے بھائیوں پر سیدھی فائرنگ کی۔ گولی لگنے سے غلام محی الدین شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ فرار ہونے سے قبل ملزمان نے پسٹل کے بٹ مار کر حسن جمیل نامی شہری کو بھی زخمی کیا۔طبی رپورٹ اور قانونی رکاوٹیں:متاثرہ نوجوان غلام محی الدین کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ (MLC) میں ڈاکٹر نے تصدیق کی ہے کہ گولی دائیں بازو پر لگی اور زخم کے گرد کالک (Blackening) کے نشانات پائے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فائرنگ بالکل قریب سے کی گئی۔ تاہم، متاثرہ خاندان کا الزام ہے کہ نامزد ملزمان سرکاری ملازمین اور بااثر ہیں، جس کی وجہ سے وہ ڈاکٹرز پر دباؤ ڈال کر حتمی میڈیکو لیگل رپورٹ رکوا رہے ہیں تاکہ کیس کو کمزور کیا جا سکے۔حکام سے اپیل:سوشل میڈیا پر ملزمان کی جدید اسلحہ کے ساتھ وائرل تصاویر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے آئی جی پنجاب، آر پی او گوجرانوالہ اور سی پی او سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، ڈاکٹرز کو میرٹ پر رپورٹ جاری کرنے کا حکم دیا جائے اور مفرور ملزمان کو فی الفور گرفتار کر کے انصاف فراہم کیا جائے۔
لاہور رپورٹ قومی کردار نیوز صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے جعلی ادویات کے مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے شاہدرہ سگیاں بائی پاس کے قریب ایک فیکٹری پر چھاپہ مارا ہے اس کارروائی کے دوران انسانی جانوں سے کھیلنے والی فیکٹری کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا جبکہ موقع سے تین ملزمان کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہےمحکمہ صحت اور ڈرگ انسپکٹرز کی ٹیم نے ریڈ کے دوران لاکھوں کی تعداد میں تیار جعلی کیپسول انجکشن اور گولیاں برآمد کیں فیکٹری میں طاقت کے انجکشن ملٹی وٹامن شوگر اور اینٹی بائیوٹک ادویات تیار کی جا رہی تھیں جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی تھیں ٹیم نے ادویات بنانے والی مشینیں اور پیکنگ کا تمام سامان بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہےصوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر کا کہنا ہے کہ جعلی اور زہریلی ادویات کا کاروبار کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ایسے عناصر معصوم شہریوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں جنہیں قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت ترین سزا دلوائی جائے گی گرفتار ملزمان شہباز رضوان اور احسن کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے گھناؤنے کاروبار کا خاتمہ ممکن ہو سکے
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور (رپورٹ: قومی کردار نیوز) پنجاب بھر میں سڑکوں پر سفر کو محفوظ اور پرسکون بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے کمر کس لی۔ آئی جی ٹریفک پنجاب کی ہدایت پر صوبہ بھر میں لائن اور لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ٹریفک پولیس کو خصوصی ٹاسک دے دیا گیا ہے کہ اب لائن کی خلاف ورزی پر صرف وارننگ نہیں بلکہ بھاری چالان کیے جائیں گے۔اہم نکات اور مہم کی تفصیلات:لائن ڈسپلن کی پابندی: سڑکوں پر لائن اور لین کے نفاذ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ موٹر سائیکل سواروں اور سست رفتار گاڑیوں کے لیے سڑک کی انتہائی بائیں جانب (لیفٹ لین) چلنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔آگاہی مہم کا آغاز: گزشتہ ایک ہفتے سے پنجاب بھر میں شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہ کرنے کے لیے خصوصی مہم جاری ہے، جس کے بعد اب بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔سخت جرمانوں کا اطلاق: ون وے کی خلاف ورزی، دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال، ہیلمٹ نہ پہننا اور سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ڈی آئی جی ٹریفک کا پیغام: ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری شہریوں کی اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے، اور سڑکوں پر نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے زیرو ٹولرینس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور رپورٹ قومی کردار نیوز وفاقی حکومت نے نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر سسٹم سے بجلی بنانے والے تمام صارفین کے لیے جنریشن لائسنس حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا ہے وزارت پاور ڈویژن کی جانب سے کی گئی حالیہ ترامیم کے مطابق اب صارفین کو فی کلو واٹ کے حساب سے ایک ہزار روپے اضافی فیس ادا کرنا ہوگی جس کے بعد ہی انہیں نیٹ میٹرنگ کی سہولت فراہم کی جا سکے گیاس سے قبل پچیس کلو واٹ تک بجلی پیدا کرنے والے صارفین کو جنریشن لائسنس مفت جاری کیا جاتا تھا اور تقسیم کار کمپنیاں خود ہی یہ لائسنس دے سکتی تھیں تاہم اب نئے قوانین کے تحت تمام صارفین کو نیپرا سے لائسنس حاصل کرنا ہوگا صارفین کو اب اپنے سسٹم کے لوڈ کے مطابق فیس کی مد میں نیپرا کے نام پے آرڈر جمع کروانا ہوگا جس کے بغیر نیٹ میٹرنگ پروجیکٹ کنکشن نہیں دیا جائے گاذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت پاور ڈویژن نے سولر سسٹم ترامیم کے تحت نیپرا لائسنس کو ہر صارف کے لیے لازمی قرار دیا ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے اس فیصلے سے سولر سسٹم لگوانے والے صارفین پر مالی بوجھ بڑھے گا کیونکہ اب انہیں سسٹم کی تنصیب کے ساتھ ساتھ لائسنس کی بھاری فیس بھی ادا کرنی پڑے گی وفاقی حکومت کے اس فیصلے کا اطلاق فوری طور پر تمام نئے کنکشنز پر ہوگا
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور رپورٹ قومی کردار نیوز پنجاب حکومت نے ٹیکس چوری روکنے اور اصل حقائق کے مطابق وصولیاں یقینی بنانے کے لیے تمام جائیدادوں کا ازسرنو سروے کروانے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے محکمہ ایکسائز اگلے مالی سال میں موجودہ سسٹم سے پراپرٹی ٹیکس کی مد میں مزید دس ارب روپے کے اضافی ہدف کو پورا کرنے کے لیے جی آئی ایس بیسڈ سروے کروائے گا اس جدید سسٹم کے ذریعے ستائیس لاکھ ٹیکس ایبل یونٹس کی اصل لوکیشن رقبہ اور کمرشل و نان کمرشل حیثیت کی واضح نشاندہی ہو سکے گیڈی جی ایکسائز نے دس ارب روپے کی اضافی وصولیوں کے لیے جیو گرافیکل انفارمیشن سسٹم کے تحت سروے کی تجویز دی ہے جس کے لیے حکومت سے ایک ارب پندرہ کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز مانگ لیے گئے ہیں جی آئی ایس سروے کے ذریعے ہائی وے ابٹنگ ٹیکس کے لیے بھی پراپرٹیز کی درست نشاندہی ممکن ہو سکے گی جس سے ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوگا اور وصولی کے عمل کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے گامحکمہ ایکسائز نے اگلے مالی سال کے لیے سکیم تیار کر کے حکومت کو بھجوا دی ہے جس کی باقاعدہ منظوری اور فنڈز کے اجراء کے بعد عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا اس سروے کا مقصد پراپرٹی ٹیکس کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے تاکہ کسی بھی پراپرٹی کی تفصیلات کو چھپایا نہ جا سکے اور حکومت کو واجب الادا ٹیکس کی سو فیصد وصولی یقینی بنائی جا سکے
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
اسلام آباد (کامرس رپورٹر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت کے ابتدائی دو سالوں کے دوران ملکی قرضوں میں 15 ہزار 72 ارب روپے کا تاریخی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارچ 2024 سے فروری 2026 کے درمیان قرضوں کے بوجھ میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 21 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔قرضوں کی تقسیم اور تفصیلات مرکزی بینک کی تفصیلات کے مطابق، ان دو سالوں میں وفاقی حکومت کے مقامی قرضوں میں 14 ہزار 4 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضوں میں 1 ہزار 68 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ فروری 2026 تک وفاقی حکومت کا مجموعی قرضہ بڑھ کر 79 ہزار 882 ارب روپے کی سطح تک پہنچ گیا ہے، جو کہ نگران حکومت کے دور (فروری 2024) میں 64 ہزار 810 ارب روپے تھا۔عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی پیش رفت دوسری جانب، مشیرِ خزانہ خرم شہزاد نے بتایا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹ میں اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ پاکستان کے یورو بانڈ کی پیشکش کا حجم 50 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 75 کروڑ ڈالر کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کو اضافی 25 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے۔معاشی استحکام کی امید مشیرِ خزانہ کے مطابق عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر معمولی دلچسپی ملک کی مالیاتی پالیسی اور معاشی سمت پر اعتماد کی علامت ہے۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ یورو بانڈز میں یہ پیش رفت عالمی مالیاتی مارکیٹ میں پاکستان کی واپسی اور مستقبل میں بیرونی فنانسنگ کے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگی، جو آنے والے دنوں میں مالی استحکام کے لیے اہم قدم ہو سکتا ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور (خصوصی رپورٹر) حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں جائیداد کے مالکان کو بڑا ریلیف فراہم کرنے کے لیے غیر منقولہ جائیدادوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی شرح میں نمایاں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریونیو نے اسٹیمپ ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت اب دیہی علاقوں میں اسٹیمپ ڈیوٹی 3 فیصد کے بجائے صرف 1 فیصد وصول کی جائے گی۔قانون سازی اور ترامیم کمیٹی کے اجلاس، جس کی صدارت محمد احمد خان لغاری نے کی، میں یہ طے پایا کہ شہروں اور دیہاتوں میں ٹیکس کا نظام یکساں بنانے کے لیے اسٹیمپ ایکٹ 1899 میں ضروری ترامیم کی جائیں گی۔ اس نئے قانون کے تحت 'قابلِ منتقلی معاہدہ' (Agreement to Sell) کو بھی ایکٹ کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ قانونی پیچیدگیوں کا خاتمہ ہو سکے۔گورنر پنجاب کی منظوری ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب 10 اپریل کو ہی اس آرڈیننس پر دستخط کر چکے ہیں۔ قائمہ کمیٹی کی توثیق کے بعد اب اسے باقاعدہ منظوری کے لیے پنجاب اسمبلی کے ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ ایوان سے منظوری ملنے کے بعد یہ آرڈیننس 90 روز کے لیے نافذ العمل ہوگا، جس کے بعد اسے مستقل قانون کی شکل دے دی جائے گی۔عوامی ریلیف ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیمپ ڈیوٹی میں 2 فیصد کمی سے نہ صرف عام آدمی پر مالی بوجھ کم ہوگا بلکہ پراپرٹی کے کاروبار میں بھی تیزی آنے کا امکان ہے۔ حکومت کا مقصد ٹیکس کے نظام کو سادہ اور شفاف بنانا ہے تاکہ جائیداد کی منتقلی کے عمل میں شہریوں کو سہولت میسر آ سکے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور ڈرگ ٹیسٹنگ لیب نے عوامی صحت کے تحفظ کے پیشِ نظر مختلف بیماریوں میں استعمال ہونے والی متعدد ادویات کے نمونوں کو غیر معیاری اور مضرِ صحت قرار دے کر ان کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ لیب رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب کئی اہم ادویات اور انجکشنز طبی معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں۔غیر معیاری قرار دی گئی ادویات رپورٹ کے مطابق ہڈیوں کے بھربھرے پن اور خون کی کمی (اینیمیا) کے لیے استعمال ہونے والے انجکشن ڈیکا ڈورلین، ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے والے انجکشن کارڈوبا، اور اینٹی بائیوٹک انجکشن ایفاسیف کے نمونے فیل پائے گئے۔ اس کے علاوہ میٹیور، میکومن، ڈروفا، ایفٹین اور ڈی پاس رون کو بھی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔گولیاں اور سیرپ بھی مضرِ صحت تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دل کے پٹھوں کے لیے استعمال ہونے والی گولی نیٹرس، درد کش گولی کیڈین اور الرجی کی دوا لوراٹیڈین کے مخصوص بیچز غیر معیاری نکلے۔ مزید برآں، کھانسی کے لیے عام استعمال ہونے والا شربت ایسفل (Acefyl) بھی لیبارٹری ٹیسٹ میں ناکام رہا۔حکام کی فوری کارروائی محکمہ صحت نے ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کی رپورٹ موصول ہوتے ہی مذکورہ بالا تمام ادویات کے متاثرہ بیچز کو مارکیٹ سے فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیوٹک انجکشن سنورسیک، درد کش سوڈوفینک، ہیکو بال، امولسٹین اور وٹامن بی 12 کے انجکشنز کے استعمال سے مریضوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، لہٰذا ان کی فروخت کو فوری طور پر روک دیا گیا ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور (قومی کردار نیوز) ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) رانا محسن نے سخت ایکشن لیتے ہوئے مختلف اڈوں پر کارروائی کی۔ نیا کرایہ نامہ آویزاں نہ کرنے اور زائد کرایہ وصول کرنے پر 18 گاڑیاں بند کر دی گئیں۔تفصیلات کے مطابق ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد حکومت کی جانب سے کرایوں میں 5 فیصد کمی کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم، متعدد ٹرانسپورٹرز نے اپنی گاڑیوں میں نئے کرایہ نامے آویزاں نہیں کیے تھے، جس پر سیکرٹری آر ٹی اے نے لاری اڈہ اور دیگر ٹرمینلز کا دورہ کر کے سخت تادیبی کارروائی کی۔کارروائی کے دوران نہ صرف گاڑیاں بند کی گئیں بلکہ ٹرانسپورٹرز پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ اس موقع پر سیکرٹری آر ٹی اے رانا محسن نے مسافروں سے وصول کیا گیا اضافی کرایہ بھی موقع پر واپس کروایا۔ رانا محسن کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کے ثمرات ہر صورت عوام تک پہنچائے جائیں گے اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
لاہور (قومی کردار نیوز) میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں پہلا "فیسلٹی مینجمنٹ یونٹ" قائم کرنے کی اصولی منظوری دے دی گئی۔ یہ یونٹ پنجاب ہاؤس اور دیگر سرکاری عمارتوں کی تعمیر، مرمت اور انتظامی امور کی نگرانی کرے گا۔
اجلاس میں مری کے مضافاتی علاقوں شوالا، سوز اور بروری میں تین نئے ہاسپیٹلٹی زون قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا جہاں نجی شعبے کے تعاون سے بین الاقوامی معیار کے ہوٹل تعمیر کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے مری میں تجاوزات کے اعث گرائی گئی سرکاری عمارتوں کا ملبہ فوری ہٹانے کا حکم بھی جاری کیا۔
اجلاس کے دوران سیاحت کے فروغ کے لیے مری کے قریب کوٹلی ستیاں کے علاقے میں پنجاب کے پہلے اسکائی گلاس برج پروجیکٹ کی منظوری دی گئی۔ اس منصوبے کا مقصد علاقے میں بین الاقوامی معیار کی تفریحی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے مستقل حل کے لیے عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ترقیاتی منصوبوں کے لیے اہم ہدایات
مری گلاس ٹرین: منصوبے پر ایک ماہ میں کام شروع کرنے کا ہدف مقرر۔
پارکنگ اور باغات: بانسرا گلی میں زولوجیکل گارڈن، ایکوزون اور جدید کانفرنس روم کی تجویز پیش۔
انفراسٹرکچر: مری رنگ روڈ سمیت دیگر سڑکوں کی چوڑائی میں 10 فٹ اضافے کا حکم۔واٹر سپلائی: دریائے جہلم سے بلک واٹر سپلائی اسکیم کی فزیبلٹی رپورٹ 30 اپریل تک طلب۔اجلاس میں انگوری روڈ پارک، ایم آئی ٹی پارک اور آریاڑی پارک کی تعمیر پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ان تمام منصوبوں کا مقصد پنجاب میں سیاحت کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور (قومی کردار نیوز) پنجاب میں گندم کی کٹائی کے سیزن کا آغاز ہوتے ہی آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ نجی کمپنیوں نے برانڈڈ آٹے کے نام پر قیمتیں آسمان پر پہنچا دی ہیں۔ رواں سیزن کے لیے گندم کی سرکاری قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے، لیکن اس کے برعکس مارکیٹ میں من آٹا 7200 روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 88 روپے فی کلوگرام ہے، جبکہ نجی کمپنیاں اسی گندم کا آٹا 180 روپے فی کلوگرام کے حساب سے بیچ رہی ہیں۔ لوکل سطح پر گندم کی پسائی کی اجرت 400 سے 500 پے فی من ہے، جس کے بعد مقامی منڈی میں آٹا 4000 روپے فی من تک پڑتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پسائی کے بعد جو آٹا 108 روپے فی کلوگرام بنتا ہے، وہی آٹا نجی برانڈز کی پیکنگ میں 180 روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کے سیزن میں آٹے کی قیمتوں میں اس غیر قانونی اضافے کا نوٹس لیا جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
لاہور (قومی کردار نیوز) شادمان پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سروسز ہسپتال کے علاقے سے 2 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر لی۔تفصیلات کے مطابق شادمان پولیس نے مخبر کی اطلاع پر سروسز ہسپتال کی پارکنگ میں چھاپہ مار کر گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے دو ملزمان عقیم اور احمد کو حراست میں لیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان گوجرانوالہ سے لاہور منشیات سپلائی کرنے کی غرض سے آئے تھے اور گرفتاری کے خوف سے ہسپتال کی پارکنگ میں روپوش تھے۔پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 10 کلو گرام سے زائد چرس برآمد کر لی ہے۔ ایس ایچ او شادمان کے مطابق ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ منشیات کی ترسیل میں ملوث دیگر نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک منتقل؛ نئے کرایہ نامے فوری آویزاں کرنے کا حکم
لاہور (قومی کردار نیوز): ٹرانسپورٹ حکام اور ٹرانسپورٹرز کے اہم اجلاس میں مسافروں کو فوری ریلیف دینے کے لیے کرایوں میں مزید 5 فیصد کمی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جس کا اطلاق آج سے ہی ہوگا۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے بتایا کہ ڈیزل کی قیمت میں واضح کمی کے بعد ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مشاورت سے یہ فیصلہ کیا گیا تاکہ عام آدمی کو براہِ راست فائدہ پہنچایا جا سکے۔ سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی رانا محسن کے مطابق نئی کرایہ فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں اور تمام اڈوں پر انہیں نمایاں جگہوں پر چسپاں کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ کرایہ نامے آویزاں نہ کرنے یا خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور اس مقصد کے لیے خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔ بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی پالیسی کے تحت عوام کو سستی اور معیاری سفری سہولیات فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، اسی سلسلے میں آئندہ چند ہفتوں میں مزید 10 اضلاع میں الیکٹرک بسیں چلانے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید کم ہونے کی صورت میں کرایوں میں مزید کمی کر کے عوام کو ریلیف دیا جائے گا۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
6 فلیگ شپ ہیلتھ پراجیکٹس کے تحت 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد شہریوں کو طبی سہولیات کی فراہمی
لاہور (قومی کردار نیوز): وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر کے ضلعی ہسپتالوں میں دل کے امراض اور فالج کے فوری علاج کے لیے جدید "سٹروک مینجمنٹ سینٹرز" قائم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ایک اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کو بریفنگ دی گئی کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار 1217 مراکزِ صحت کی ری-ویمپنگ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ مزید 895 مراکز پر کام تیزی سے جاری ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ مختصر مدت میں "فیلڈ ہسپتال" اور "کلینک آن وہیل" کے ذریعے 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا جس میں 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد ایکسرے اور الٹرا ساؤنڈ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شوگر، ٹی بی اور دل کے امراض میں مبتلا ہزاروں مریضوں کو گھر بیٹھے ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ جہلم، جھنگ، میانوالی اور وہاڑی کے ضلعی ہسپتالوں میں دل کے امراض کے علاج کی سہولت بھی شروع کر دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ صحت کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ نرسنگ کی تعلیم کے لیے نئے کالجز کا قیام عمل میں لایا جائے اور مراکزِ صحت کی بحالی کا کام رواں سال کے اندر مکمل کیا جائے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
وفاقی وزیر مذہبی امور اور سعودی سفیر نے عازمین کو رخصت کیا؛ 'روڈ ٹو مکہ' پراجیکٹ سے 80 فیصد عازمین مستفید ہوں گے
لاہور (قومی کردار نیوز): ملک بھر میں حج آپریشن 2026 کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے سعودی ایئرلائن کی پہلی خصوصی پرواز (SV-5735) کے ذریعے 345 عازمینِ حجازِ مقدس کے لیے روانہ ہو گئے۔وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی نے ایئرپورٹ پر عازمین کو الوداع کیا اور انہیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔ اس موقع پر وفاقی سیکرٹری مذہبی امور ابرار احمد مرزا اور روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ کے سربراہ میجر جنرل ڈاکٹر صالح بن سعد السدیر نے بھی عازمین کی حوصلہ افزائی کی۔اہم تفصیلات:پروازوں کی تعداد: لاہور سے مجموعی طور پر 104 پروازوں کے ذریعے 29 ہزار 929 عازمین حج کی سعادت حاصل کرنے جائیں گے۔روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ: لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے بعد اب لاہور میں بھی اس پراجیکٹ کے تحت 80 فیصد عازمین کی امیگریشن اور کسٹم کے مراحل پاکستان میں ہی مکمل کر لیے گئے ہیں۔سہولت: اس سسٹم کے باعث عازمین کو سعودی عرب پہنچ کر گھنٹوں طویل قطاروں میں نہیں لگنا پڑے گا اور ان کا سامان براہِ راست ان کی رہائش گاہوں پر پہنچا دیا جائے گا۔حج آپریشن کے اس اہم سنگ میل پر وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت عازمین کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
سرکاری نرخ نامے ہوا میں اڑا دیے گئے؛ قیمتوں میں 40 فیصد تک خودساختہ اضافہ، غریب عوام کی کمر ٹوٹ گئ
لاہور (قومی کردار نیوز): شہر میں مہنگائی کا جن بے قابو ہو گیا ہے، تندور مالکان نے عوامی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سادہ روٹی کی قیمت میں یکدم 6 روپے کا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد 14 روپے میں ملنے والی روٹی اب 20 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔انتظامیہ کے مقرر کردہ سرکاری ریٹس کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں نئی قیمتیں نافذ کر دی گئی ہیں۔ تندور مالکان کا موقف ہے کہ گیس، ایل پی جی اور آٹے کے دام بڑھنے کی وجہ سے اخراجات پورے کرنا ناممکن ہو چکا ہے، لہٰذا قیمت بڑھانا ان کی مجبوری ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر حکومت سستی گیس اور سستا آٹا فراہم کرے تو روٹی سستی دی جا سکتی ہے۔دوسری جانب نان روٹی ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ لوڈ شیڈنگ اور مہنگی ایل پی جی نے کاروبار کرنا مشکل بنا دیا ہے، وہ جلد ہی انتظامیہ سے قیمتوں میں باضابطہ اضافے کی درخواست بھی کریں گے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
توانائی بحران اور لاک ڈاؤن نے تجارتی سرگرمیاں مفلوج کر دیں، لاہور چیمبر کا اظہارِ تشویش
محدود کاروباری اوقات میں بھی صنعتوں کو بجلی کی عدم فراہمی معاشی قتل کے مترادف ہے: فہیم الرحمان سہگل
تاجر برادری کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، سازگار ماحول کے بغیر سرمایہ کاری ممکن نہیں
لاہور (قومی کردار نیوز) — ایوانِ صنعت و تجارت (لاہور چیمبر) کی قیادت نے ملک میں جاری بدترین لوڈشیڈنگ اور مارکیٹوں کی بندش کے حوالے سے انتظامیہ کے نامناسب رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمان سہگل نے سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ اور نائب صدر خرم لودھی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے شدید بحران نے صنعتی پہیہ جام کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک طرف کاروباری اوقات محدود کر دیے گئے ہیں اور دوسری جانب اس قلیل وقت میں بھی بجلی فراہم نہ کرنا تاجروں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ جس سے ملکی پیداوار اور برآمدی اہداف بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔چیمبر کے عہدیداران نے مارکیٹیں بند کرواتے وقت تاجروں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی، دھکم پیل اور فائرنگ کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ہتھکنڈوں سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے اور تاجر اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہیں۔لاہور چیمبر کی قیادت نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اپنے ان فیصلوں پر نظر ثانی کرے، تاجروں کی عزتِ نفس کا خیال رکھا جائے اور خلیجی ممالک (گلف اور دبئی) کی طرز پر ایک آزاد اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کیا جائے تاکہ معیشت کا پہیہ دوبارہ چل سکے۔
پنجاب میں الیکٹرک گاڑیاں اور لیتھیم بیٹریوں کا پلانٹ لگانے کے لیے چینی سرمایہ کاری کا فیصلہ
چینی وفد کی صوبائی وزیرِ صنعت چوہدری شافع حسین سے ملاقات، ای وی (EV) سیکٹر میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
معاہدے کے تحت ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی افراد کی تکنیکی تربیت اور جدید کوالٹی ٹیسٹنگ سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے گا
لاہور (قومی کردار نیوز) — پنجاب کے الیکٹرک وہیکل (ای وی) سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ صوبائی وزیرِ صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین سے ایک معروف چینی کمپنی کے وفد نے ملاقات کی، جس میں الیکٹرک ٹیکنالوجی کے فروغ اور سرمایہ کاری کے سازگار ماحول پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔چینی سرمایہ کار گروپ نے پنجاب میں الیکٹرک گاڑیاں، ای وی چارجنگ اسٹیشنز اور لیتھیم بیٹریوں کے اسمبلنگ پلانٹس لگانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں الیکٹرک رکشوں اور لیتھیم بیٹریوں کی مقامی سطح پر تیاری شروع کی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں چھوٹی چار پہیوں والی (4-wheeler) الیکٹرک گاڑیاں بنانے کا پلانٹ لگایا جائے گا۔مزید برآں، چینی کمپنی نے ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ساتھ ساتھ مقامی لیبر کو اس نئے سیکٹر کے حوالے سے جدید تربیت فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کروائی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں اور پرزہ جات کے معیار کو عالمی سطح پر یقینی بنانے کے لیے پنجاب میں ایک جدید 'کوالٹی ٹیسٹنگ سینٹر' بھی قائم کیا جائے گا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے چینی وفد کو حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے بھی آگاہ کیا۔
بجلی افسران کے مفت یونٹس ختم، لاہور ہائیکورٹ نے بحالی کی درخواست مسترد کر دی
مفت بجلی ملازمین کا کوئی قانونی حق نہیں بلکہ محض ایک انتظامی سہولت تھی: عدالت
پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں اور مالی بحران پر قابو پانے کے لیے مونیٹائزیشن کا اقدام ناگزیر ہے: 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ
لاہور (قومی کردار نیوز) — لاہور ہائیکورٹ نے لیسکو سمیت بجلی کی دیگر تقسیم کار کمپنیوں کے افسران کو ملنے والے مفت بجلی یونٹس کے خاتمے کے خلاف دائر درخواست کو خارج کر دیا ہے۔ جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے 5 دسمبر 2023 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کو قانونی قرار دے دیا ہے۔عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ مفت یونٹس کی فراہمی ملازمین کا کوئی مستقل یا بنیادی قانونی حق نہیں ہے، بلکہ یہ صرف ایک مراعاتی سہولت تھی جسے انتظامی پالیسی کے تحت کسی بھی وقت تبدیل یا ختم کیا جا سکتا ہے۔ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے لیے مفت یونٹس کو نقد رقم (مونیٹائزیشن) میں تبدیل کرنا حکومتی پالیسی کا حصہ ہے اور اس سے کسی بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ حالات میں پاور سیکٹر کو گردشی قرضوں (سرکلر ڈیٹ) اور شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے مفت یونٹس کو ختم کر کے رقم کی صورت میں ادائیگی کا حکومتی فیصلہ درست ہے۔ درخواست گزار عدالت میں یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ مفت بجلی کی فراہمی ان کی تنخواہ کا باقاعدہ قانونی حصہ ہے۔
مستحق طلبہ کے لیے وظائف اور سرکاری کالجوں میں الیکٹرک بسوں کی فراہمی منظور، وزیر اعلیٰ پنجاب کا بڑا اعلان
صوبے کے 166 سرکاری کالجوں میں جدید آئی ٹی لیبز فعال، کامرس کالجز کو سرکاری جامعات سے منسلک کرنے کا فیصلہ
پنجاب حکومت اور گوگل کے اشتراک سے ایک لاکھ طلبہ کو سائبر سیکیورٹی اور اے آئی کے مفت کورسز کروائے جائیں گے
لاہور (قومی کردار نیوز) — وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت سکول اور ہائر ایجوکیشن کے حوالے سے منعقدہ خصوصی اجلاس میں صوبے کے تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کئی اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے 'ہونہار سکالرشپ پروگرام' کے تحت تقریباً 63 ہزار مستحق طلبہ کو یکمشت تعلیمی وظائف دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ، طلباء و طالبات کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے سرکاری کالجوں کے لیے الیکٹرک بسیں چلانے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے وزیر اعلیٰ نے ایک لاکھ نوجوانوں کو گوگل کے تعاون سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI)، سائبر سیکیورٹی اور بزنس انٹیلی جنس کے مہنگے کورسز بالکل مفت کروانے کا اعلان کیا ہے، جن کی بین الاقوامی فیس 400 سے 1000 ڈالر تک ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی لیپ ٹاپ سکیم میں اوپن میرٹ کے طلبہ کو بھی شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے پہلی مرتبہ سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی کارکردگی جانچنے کے لیے "کے پی آئی" (KPI) سسٹم متعارف کروایا گیا ہے۔ مزید برآں، صوبے کے کامرس کالجوں کو 19 سرکاری یونیورسٹیوں سے منسلک کر کے وہاں بی ایس (BS) کے 14 مختلف مضامین پڑھانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران آٹھویں جماعت کے حالیہ امتحانات میں طالبات کی 92 فیصد شاندار کامیابی کو بھی وزیر اعلیٰ نے خصوصی طور پر سراہا۔
لاہور سے راولپنڈی فاسٹ ٹرین پراجیکٹ کا معاہدہ طے پا گیا، مسافت محض سوا دو گھنٹے رہ جائے گی
پنجاب حکومت اور پاکستان ریلوے کے مابین تاریخی مفاہمت، صوبے کے 8 مقامی روٹس پر بھی جدید ترین ٹرینیں دوڑیں گی مریم نواز کی تیز رفتاری نے پنجاب کو 'آٹو' پر لگا دیا ہے، 70 فیصد عوام موجودہ لیڈرشپ کے کام سے مطمئن ہیں: وزیر ریلوے حنیف عباسی
لاہور (خصوصی رپورٹ) حکومت پنجاب اور پاکستان ریلوے کے درمیان صوبے میں جدید سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک تاریخی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس اہم معاہدے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے دستخط کیے۔ اس پراجیکٹ کے تحت پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار لاہور سے راولپنڈی تک فاسٹ ٹرین چلائی جائے گی، جو 280 کلومیٹر کا یہ طویل سفر صرف سوا دو گھنٹے میں طے کرے گی۔تفصیلات کے مطابق، پنجاب کے 20 ریجنز میں 1415 کلومیٹر کے فاصلے پر محیط 8 لوکل روٹس پر بھی جدید ترین ڈی ایم یو (DMU) ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ ان مقامی روٹس میں شاہدرہ سے نارووال (79 کلومیٹر)، نارووال سے سیالکوٹ (62 کلومیٹر)، رائیونڈ سے قصور، پاکپتن سے لودھراں (370 کلومیٹر)، شیخوپورہ، جڑانوالہ، شورکوٹ (220 کلومیٹر)، لالہ موسیٰ، بھلوال، سرگودھا (147 کلومیٹر)، فیصل آباد براستہ چک جھمرہ، چنیوٹ (68 کلومیٹر) اور کوٹ ادو سے براستہ ڈیرہ غازی خان، کشمور (303 کلومیٹر) شامل ہیں۔ ان روٹس پر چلنے والی ٹرینوں کے لیے انجن اور بوگیاں پنجاب حکومت فراہم کرے گی۔اس موقع پر وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے وزیراعلیٰ مریم نواز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تیز رفتار کارکردگی نے پورے پنجاب کی ترقی کو ’آٹو سپیڈ‘ پر لگا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 70 فیصد سے زائد عوام موجودہ قیادت پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ ان کے فلاحی کام گراؤنڈ پر نظر آ رہے ہیں۔ وزیر ریلوے نے مزید بتایا کہ ان 9 روٹس کے فعال ہونے سے تقریباً 9 کروڑ شہری مستفید ہوں گے اور اس پورے ٹرانسپورٹ پراجیکٹ کی نگرانی خود وزیراعلیٰ پنجاب کریں گی۔منصوبے کے تحت لاہور کے تاریخی ریلوے اسٹیشن کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے گا، جس میں جدید آٹومیٹک سسٹم اور عالمی معیار کی پارکنگ کی سہولت شامل ہوگی۔ اس کے علاوہ، ماحولیاتی خوبصورتی کے لیے شاہدرہ سے رائیونڈ تک ریلوے ٹریک کے دونوں اطراف 40 کلومیٹر طویل گرین پارکس بنائے جائیں گے، جبکہ صوبہ بھر میں ریلوے لائنز کے ساتھ 4 لاکھ سے زائد پودے بھی لگائے جائیں گے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ پنجاب کے 13 کروڑ عوام کو بھی یورپ کی طرز پر جدید، محفوظ اور آرام دہ سفری سہولیات میسر آ سکیں۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
بغیر ٹریفک خلاف ورزی کے شہریوں کو روکنا غیر قانونی قرار: لاہور ہائیکورٹ
غیر ضروری طور پر گاڑیاں روکنے سے ٹریفک جام اور حادثات کا خطرہ بڑھتا ہے، اصل قانون شکنوں کو پکڑنے میں ٹریفک پولیس ناکام ہے: جسٹس شاہد کریم کے ریمارکس شیرانوالہ اور ٹیکسالی گیٹ پراجیکٹس پر حکم امتناع میں توسیع، آئندہ سماعت پر ٹریفک پولیس کے سینئر افسر طلب
لاہور (خصوصی رپورٹ) لاہور ہائیکورٹ نے ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کو بلاجواز روکنے اور پریشان کرنے کے عمل پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے شہری آزادیوں کی خلاف ورزی اور غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر ٹریفک پولیس کے اعلیٰ اور ذمہ دار افسر کو طلب کر لیا ہے، جبکہ شیرانوالہ گیٹ اور ٹیکسالی گیٹ پراجیکٹس کو روکنے کے حوالے سے جاری حکم امتناعی (سٹے آرڈر) میں بھی توسیع کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق، لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ ٹریفک پولیس ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے میں اکثر ناکام دکھائی دیتی ہے، جبکہ بغیر کسی وجہ کے شہریوں کو روک کر غیر ضروری پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بغیر کسی غلطی کے شہریوں کو روکنا ان کی بنیادی آزادیوں کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ بلاوجہ گاڑیاں روکنے سے سڑکوں پر ٹریفک کی روانی میں خلل پڑتا ہے جس سے نہ صرف حادثات کا خدشہ بڑھتا ہے، بلکہ ٹریفک جام رہنے کی وجہ سے گاڑیوں کے دھوئیں میں اضافہ ہوتا ہے جو سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کا بڑا سبب ہے۔دریں اثناء، سماعت کے دوران ممبر ماحولیاتی کمیشن سید کمال حیدر نے عدالت میں زیرِ زمین پانی کی تشویشناک حد تک گرتی ہوئی سطح کے حوالے سے واسا (WASA) کی تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی۔ عدالت نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے زیرِ زمین پانی کے تحفظ اور بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کو مزید سخت اور موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اچانک لاکھوں روپے کا اضافہ، عوام کے لیے بجلی کا متبادل بھی مہنگا ہو گیا
5 سے 15 کلو واٹ تک کے سولر پراجیکٹس کی لاگت میں دو لاکھ روپے تک کا ہوشربا جمپ، مارکیٹ میں مصنوعی قلت نے خریداروں کو پریشان کر دیا ہائبرڈ سسٹمز کی لیتھیم بیٹریوں کے ریٹس بھی 20 فیصد تک بڑھ گئے، امپورٹ کی بندش اور نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی اضافے کی بڑی وجوہات قرار
لاہور (نیوز ڈیسک) درآمدات میں رکاوٹوں اور مبینہ منافع خوری کے باعث مارکیٹ میں سولر سسٹمز کی قیمتیں راتوں رات آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ 5 سے لے کر 15 کلو واٹ تک کے سولر سسٹمز کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کے اضافے نے گرمیوں کے آغاز میں ہی خریداروں اور متبادل توانائی کی طرف جانے والے شہریوں کی پریشانیوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق، مارکیٹ میں سولر پینل کے ساتھ ساتھ ہائبرڈ بیٹریوں کے ریٹس میں بھی 20 فیصد تک کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے سولر مارکیٹ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ تازہ ترین مارکیٹ صورتحال کے مطابق 5 کلو واٹ سولر سسٹم کی قیمت میں تقریباً 2 لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 6 لاکھ 50 ہزار روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح، 7 کلو واٹ کا سسٹم ساڑھے سات لاکھ روپے، جبکہ 10 کلو واٹ کا سسٹم 11 لاکھ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ بڑے سسٹمز میں 12 کلو واٹ کی قیمت 13 لاکھ روپے اور 15 کلو واٹ کے پراجیکٹ کی لاگت 15 لاکھ روپے مقرر کر دی گئی ہے۔مارکیٹ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض عناصر کی جانب سے سولر پینلز کی مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتوں کو جان بوجھ کر بڑھایا گیا ہے۔ تاہم، دکانداروں کا موقف ہے کہ امپورٹ متاثر ہونے اور سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے قیمتوں میں یہ اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب، وفاقی حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں حالیہ اور متوقع ترامیم کے باعث صارفین کا رجحان اب تیزی سے آف گرڈ (Off-grid) سسٹمز کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ اس رجحان کی وجہ سے ہائبرڈ سسٹمز کے لیے درکار لیتھیم بیٹریوں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی قیمتوں میں بھی 20 فیصد تک کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
پنجاب بھر میں جائیداد پر سٹیمپ ڈیوٹی یکساں، 3 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کرنے کا بڑا فیصلہ
دیہی اور شہری علاقوں میں ڈیوٹی کے فرق سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے اہم قدم گورنر پنجاب کی جانب سے ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دے دی گئی، اطلاق 90 روز کے لیے ہوگا
لاہور (خصوصی رپورٹ) پنجاب حکومت نے غیر منقولہ جائیداد (Immovable Property) کے مالکان کو بڑا ریلیف فراہم کرتے ہوئے دیہی علاقوں میں بھی سٹیمپ ڈیوٹی کی شرح 3 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد دیہی اور شہری علاقوں میں سٹیمپ ڈیوٹی کے فرق کو ختم کر کے یکساں شرح نافذ کرنا ہے۔تفصیلات کے مطابق، دیہی علاقوں میں جائیداد کی منتقلی پر 3 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 1 فیصد سٹیمپ ڈیوٹی لاگو تھی، جس کے باعث عوام اور پراپرٹی مالکان کو مختلف انتظامی مسائل کا سامنا تھا۔ حکومتِ پنجاب نے اس فرق کو دور کرنے کے لیے سٹیمپ ایکٹ 1899 میں اہم ترامیم تجویز کی ہیں، جس کے تحت اب بلا تفریق ایک فیصد کے حساب سے سٹیمپ ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔اس حوالے سے گورنر پنجاب نے 10 اپریل کو ترمیمی آرڈیننس کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، جو فوری طور پر 90 روز تک نافذ العمل رہے گا۔ مزید برآں، اس آرڈیننس کو پنجاب اسمبلی میں بھی پیش کر دیا گیا ہے جسے مزید قانونی کارروائی اور غور کے لیے دو ماہ کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق، اس ترمیمی آرڈیننس کے تحت قابلِ منتقلی معاہدوں (Transfer Agreements) کو بھی باقاعدہ سٹیمپ ایکٹ کا حصہ بنانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ اس قانون کو مزید موثر اور شفاف بنایا جا سکے۔ اس فیصلے سے پراپرٹی سیکٹر سے وابستہ افراد اور جائیداد کی خریدو فروخت کرنے والے عام شہریوں کو نمایاں ریلیف ملے گا۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ: شہری خوار، کاروباری سرگرمیاں ٹھپ
لاہور (خصوصی رپورٹ): شہر میں بجلی اور گیس کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ بجلی کی آنکھ مچولی سے قیمتی الیکٹرانکس اشیاء جلنے لگیں، جبکہ گیس کی عدم دستیابی کے باعث عوام مہنگی ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔تفصیلات کے مطابق، لیسکو ریجن میں رات کے اوقات میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 4 گھنٹے سے تجاوز کر گیا ہے۔ حکام کا موقف ہے کہ دن میں سولر پینلز کی وجہ سے طلب کم رہتی ہے، تاہم رات کو سولر بجلی منقطع ہونے سے ڈیمانڈ میں اچانک اضافے کے باعث غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کرنا پڑتی ہے۔ ہال روڈ، عابد مارکیٹ اور فیروز پور روڈ سمیت دیگر تجارتی مراکز میں بجلی کی بار بار بندش پر تاجر برادری سراپا احتجاج ہے۔ دوسری جانب، مہنگی بجلی کے باوجود غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔دریں اثناء، سسٹم سے ایل این جی غائب ہونے سے گیس کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں دوپہر کے وقت گیس مکمل بند رہتی ہے، جبکہ صبح اور شام کے اوقات میں پریشر نہ ہونے کے برابر ہے۔ گیس کی عدم فراہمی پر شہریوں کی جانب سے سوئی ناردرن دفتر کے باہر احتجاج بھی کیا گیا۔
9 لاکھ طلبہ کی ای مارکنگ کا کامیاب تجربہ: امتحانی نظام میں بڑی جدت
لاہور (خصوصی رپورٹ): ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 9 لاکھ طلبہ کے امتحانی پرچوں کی ’ای مارکنگ‘ کا شان دار تجربہ کامیاب ہو گیا ہے۔ اس جدید اور شفاف نظام کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے پنجاب پبلک سروس کمیشن (پی پی ایس سی) نے بھی اپنے امیدواروں کے پرچوں کی جانچ پڑتال کے لیے پنجاب ایگزامینیشن کمیشن (پیک) سے معاونت طلب کر لی ہے۔تفصیلات کے مطابق، ای مارکنگ ٹیکنالوجی کی بدولت 9 لاکھ طلبہ کے امتحانی نتائج محض 30 روز کے ریکارڈ وقت میں تیار کر لیے گئے ہیں، جس سے امتحانی نظام میں تیزی آئی ہے اور امیدواروں کے لیے بڑی سہولت پیدا ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق، آئندہ برسوں میں تعلیمی بورڈ لاہور کے امتحانات بھی اسی جدید طرز پر منعقد کیے جائیں گے۔اس ضمن میں پیک حکام نے واضح کیا ہے کہ آٹھویں جماعت کے امتحانی نتائج مرتب کرنے کے لیے پہلی بار مصنوعی ذہانت (AI) کو بروئے کار لایا گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس شاندار استعمال سے پرچوں کی چیکنگ اور نتائج میں کسی بھی قسم کی غلطی یا خامی کی گنجائش مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔
ای چالان کے نام پر جعلی ایس ایم ایس فراڈ: سیف سٹی کا الرٹ جاری
لاہور (خصوصی رپورٹ): ای چالان کے بہانے شہریوں کو لوٹنے والے نوسرباز متحرک ہو گئے۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے جعلی میسجز کے ذریعے ڈیجیٹل فراڈ کے حوالے سے انتباہ جاری کر دیا ہے۔حکام کے مطابق، سیف سٹی کی جانب سے ای چالان کا آفیشل میسج صرف "9915" سے بھیجا جاتا ہے، جس میں ادائیگی کا کوئی لنک یا بینک تفصیلات نہیں مانگی جاتیں۔ جعل ساز مختلف نمبروں سے لنکس بھیج کر شہریوں کی ذاتی معلومات اور رقوم ہتھیا رہے ہیں۔شہریوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی مشکوک لنک پر ہرگز کلک نہ کریں۔ چالان کی تصدیق صرف سیف سٹی کی آفیشل ویب سائٹ سے کریں اور ادائیگی کے لیے محض 'ای پے پنجاب' (ePay Punjab) ایپ کے ذریعے پی ایس آئی ڈی (PSID) کا استعمال کریں۔
ٹریفک جرمانوں میں ڈیڑھ سو فیصد تک کمی کی سمری تیار
لاہور (خصوصی رپورٹ): ٹریفک جرمانوں میں ہوشربا اضافے پر ٹرانسپورٹرز کے احتجاج کے بعد حکومت نے بڑا ریلیف دینے کی تیاری کر لی۔ جرمانوں میں 100 سے 150 فیصد تک کمی کے لیے نئی سمری تیار کر لی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق موٹرسائیکل اور رکشوں کی 7 کیٹیگریز میں جرمانوں کو 100 فیصد کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح لگژری گاڑیوں کی 13 کیٹیگریز اور کمرشل گاڑیوں کے جرمانوں میں 100 سے 150 فیصد کمی کی سفارش کی گئی ہے، جس کے بعد ان گاڑیوں سے 20 ہزار کے بجائے کم از کم 2 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 10 ہزار روپے جرمانہ وصول کیا جائے گا۔تاہم، 2 ہزار سی سی تک کی کاروں اور جیپوں پر 3 سے 5 ہزار روپے کے موجودہ جرمانے برقرار رہیں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال جرمانوں میں بھاری اضافے پر کمرشل گاڑیوں کے مالکان کے شدید احتجاج کے بعد حکومت نے اس فیصلے پر نظرثانی کا حکم دیا تھا۔
معروف فلمسٹار ریما خان 'آپ کا کلینک' کی باقاعدہ برانڈ ایمبیسیڈر مقرر
مستحق مریضوں کا مفت اور معیاری علاج دکھی انسانیت کی سچی خدمت ہے: اداکارہ ریما۔ کلینک کے دورے پر مریضوں کی عیادت، سابق وزیرِ صحت پروفیسر جاوید اکرم اور دیگر نامور ڈاکٹرز بھی ہمراہ تھے
مریدکے (نیوز رپورٹر) پاکستان کی نامور فلمسٹار ریما خان نے فلاحی طبی ادارے 'آپ کا کلینک' کی برانڈ ایمبیسیڈر کی باقاعدہ ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے کلینک کا خصوصی دورہ کیا اور وہاں زیرِ علاج مریضوں کی عیادت کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔اس اہم موقع پر ان کے ہمراہ سابق صوبائی وزیرِ صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم، پروفیسر شہلا جاوید اکرم، پروفیسر صداقت علی خان، ڈاکٹر احمد رضا، ڈاکٹر جمیل، ڈاکٹر طارق عزیز سمیت ممتاز طبی ماہرین اور ڈاکٹرز کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔اپنے دورے کے دوران فلمسٹار ریما نے کلینک میں فراہم کی جانے والی جدید طبی سہولیات اور شاندار انتظامات کی بھرپور تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ماہر ڈاکٹرز کا غریب اور نادار مریضوں کو بلا معاوضہ علاج فراہم کرنا دکھی انسانیت کی خدمت کی ایک روشن اور قابلِ تقلید مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فلاحی ادارے معاشرے کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔تقریب کے موقع پر سابق وزیرِ صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے کے تحت 'آپ کا کلینک' کی ایمبیسیڈر بننے پر فلمسٹار ریما خان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
شام 5 بجے کے بعد سوا دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری
زائد لوڈ والے صارفین کے لیے تھری فیز میٹر لازمی قرار
پیک آورز (شام 5 سے رات 1 بجے) میں لوڈ مینجمنٹ کا مقصد بجلی کی قیمتوں میں 3 روپے فی یونٹ اضافے کو روکنا ہے: پاور ڈویژن
3 کلو واٹ سے زیادہ لوڈ پر سنگل فیز میٹرز قبول نہیں ہوں گے، دوسری جانب طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے تاجروں اور شہریوں کا جینا محال کر دیا
لاہور (نیوز ڈیسک) پاور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نئے شیڈول کے مطابق، اب شام 5 بجے کے بعد روزانہ سوا دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جائے گی۔ ترجمان پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ شام 5 بجے سے رات 1 بجے تک (پیک آورز) کی جانے والی اس اڑھائی گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کا بنیادی مقصد عوام کو بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ 3 روپے فی یونٹ اضافے سے بچانا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ جولائی سے فروری تک صارفین کو 46 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا اور ایندھن مہنگا ہونے کے باوجود بجلی 71 پیسے فی یونٹ سستی کی گئی۔ وزیر اعظم کی واضح ہدایات ہیں کہ بجلی کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ نہ کیا جائے۔ بروقت اقدامات نہ کرنے کی صورت میں بجلی 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک مہنگی ہو سکتی تھی، تاہم اب محض 1.5 روپے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔ ترجمان کے مطابق، بجلی کی طلب میں کمی لا کر قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔دوسری جانب، مقررہ حد سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے سنگل فیز میٹر صارفین کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ لیسکو نے ایم ڈی آئی (MDI) ریڈنگ کا ڈیٹا اکٹھا کر لیا ہے اور بلوں پر میکسیمم ڈیمانڈ انڈیکیٹر ریڈنگ چھاپنا شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایم ڈی آئی ریڈنگ کی بنیاد پر اب صرف 3 کلو واٹ تک کے صارفین ہی سنگل فیز میٹر استعمال کر سکیں گے۔ جو صارفین 3 کلو واٹ سے زیادہ کا لوڈ استعمال کر رہے ہیں، انہیں ابتدائی طور پر 'ایکسٹینشن آف لوڈ' کے نوٹسز بھیجے جائیں گے۔ خلاف ورزی جاری رہنے پر انہیں تھری فیز میٹر کا ڈیمانڈ نوٹس جاری کر دیا جائے گا اور تھری فیز میٹر پر منتقل ہونے کی صورت میں صارفین کے فکسڈ چارجز میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ایک طرف حکومت کی جانب سے لوڈ مینجمنٹ اور ریلیف کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب مارکیٹوں، تجارتی مراکز اور رہائشی علاقوں میں بجلی کی طویل بندش نے عوام اور تاجر برادری کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ مال روڈ، شاہ عالم مارکیٹ اور اعظم کلاتھ مارکیٹ جیسے اہم تجارتی مراکز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔ خاص طور پر موبائل، الیکٹرانکس اور دیگر بجلی سے وابستہ کاروبار مکمل طور پر متاثر ہوئے ہیں جس سے تاجروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافے اور شدید گرمی میں بجلی کی عدم دستیابی کے باعث گھروں میں خواتین، بچے اور بزرگ شدید اذیت کا شکار ہیں۔ تاجر برادری اور شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو ان کا کاروبار اور روزمرہ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو جائے گی۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
تجارتی مراکز میں صفائی کے لیے نائٹ شفٹ متعارف، ہر ضلع میں 'اینٹی لٹرنگ سکواڈ' بنے گا
ذیلی سرخی: 'ستھرا پنجاب' کا انتظامی کنٹرول ڈویژن سے اضلاع کو منتقل، ضلعی مانیٹرنگ سے کارکردگی مزید بہتر بنائیں گے: صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق
لاہور (خصوصی رپورٹ) صوبے بھر کے مصروف تجارتی اور کاروباری علاقوں کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے رات کے اوقات میں صفائی کی تیسری شفٹ (نائٹ شفٹ) کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، صفائی کے نظام کی کڑی نگرانی اور اسے مزید موثر بنانے کے لیے 'ستھرا پنجاب' مہم کا انتظامی کنٹرول ڈویژنل سطح سے ختم کر کے براہ راست اضلاع کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ان اہم فیصلوں کی منظوری صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت ستھرا پنجاب اتھارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں دی گئی۔ ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہونے والے اس اجلاس میں سیکرٹری بلدیات شکیل احمد میاں، سپیشل سیکرٹری شاہد زمان، وزیر اعلیٰ پنجاب کے فوکل پرسن برائے ستھرا پنجاب عاصم محمود اور ڈی جی بابر صاحب دین سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ اختیارات کی ضلعی سطح پر منتقلی اور مانیٹرنگ سے محکمے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ (آئی پی او آر) کے حالیہ آزادانہ سروے کے مطابق، حکومت کی کارکردگی میں عوام نے 'ستھرا پنجاب' کو سب سے بہترین ریٹنگ دی ہے جو کہ ادارے کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔اجلاس میں متفقہ طور پر صوبے کے ہر ضلع میں کوڑا کرکٹ پھینکنے والوں کی روک تھام کے لیے 'اینٹی لٹرنگ سکواڈز' تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ صوبائی وزیر نے سختی سے ہدایت کی کہ گندگی پھیلانے پر جرمانوں کا مقصد عوام کو محض سزا دینا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا اصل ہدف شہریوں میں احساسِ ذمہ داری بیدار کرنا اور معاشرتی اصلاح ہے۔اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری بلدیات شکیل احمد میاں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ محکمے کو نئے اتھارٹی ماڈل کے تحت استوار کرنے (ٹرانزیشن) کا عمل تیزی سے جاری ہے اور اب یہ اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
گندم کی فی من قیمت 3500 روپے مقرر، 72 گھنٹوں میں ادائیگی کی یقین دہانی
ذیلی سرخی: 6 ارب روپے کی لاگت سے مفت باردانہ فراہم کرنے کا اعلان، کسان کارڈ ہولڈرز سے گندم کی خریداری کو ترجیح دی جائے گی، وزیر اعلیٰ پنجاب
لاہور (نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے گندم کی سرکاری قیمت 3500 روپے فی من مقرر کر دی ہے۔ اس شاندار پیکیج کے تحت کسانوں کو 6 ارب روپے مالیت کا باردانہ بالکل مفت فراہم کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق، خریداری مراکز پر رجسٹرڈ کسانوں کو فی ایکڑ 10 بوریوں کے حساب سے باردانے کی فراہمی فوری طور پر شروع کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، کسان کارڈ رکھنے والے کاشتکاروں سے گندم خریدنے کو اولین ترجیح دی جائے گی اور اس بات کو سختی سے یقینی بنایا جائے گا کہ فصل فروخت کرنے کے 72 گھنٹوں کے اندر کسانوں کو ان کے پیسوں کی ادائیگی ہو جائے۔ اس شفافیت کو برقرار رکھنے اور عمل کی نگرانی کے لیے صوبائی اور ڈویژنل سطح پر اسٹریٹجک مینجمنٹ کمیٹیاں بھی قائم کر دی گئی ہیں۔اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ کے زرعی منصوبوں پر 88 فیصد کسانوں نے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ نوجوان ایگریکلچر گریجویٹس کے لیے "ورک ود پنجاب گورنمنٹ" کے تحت انٹرن شپ پروگرام کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔ کسان کارڈ کے ذریعے 100 ارب روپے کے قرضوں کی فراہمی جاری ہے جس کے لیے 9 لاکھ کسانوں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے جبکہ ریکوری کی شرح 99 فیصد رہی ہے۔مزید برآں، صوبے میں زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 'گرین ٹریکٹر سکیم' کے تحت 30 ہزار ٹریکٹرز کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس میں سے 20 ہزار کسانوں کو دیے جا چکے ہیں۔ مقامی سطح پر زرعی مشینری (جیسے ڈسکہ میں ہارویسٹر) کی تیاری کی بھی بھرپور سرپرستی کی جا رہی ہے۔ مریم نواز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسانوں کے معاشی مفادات کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا اور زراعت کی پائیدار ترقی کے لیے عملی اقدامات جاری رہیں گے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ: باپ سے قبل فوت ہونے والی بیٹی کے ورثاء کے حقوق بحال
وفاقی آئینی عدالت نے وراثت کے قانون کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ باپ کی زندگی میں وفات پا جانے والی بیٹی کے ورثاء بھی وراثت کے حقدار ہیں۔ عدالت نے 68 سال سے زیر التوا معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ ورثاء کو مقدمے میں فریق بننے کی اجازت دے دی۔وکیل صفائی کے مطابق، ریونیو ریکارڈ میں غلطی کی وجہ سے سردار بیگم کے ورثاء تقریباً سات دہائیوں تک اپنے جائز حق سے محروم رہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کنسولیڈیشن کی ناقص کارروائی اور تکنیکی نکات انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے، اور بیٹی کے انتقال کے باوجود اس کی اولاد اپنے نانا کی وراثت میں حصہ پانے کی قانونی حقدار ہے۔
پنجاب کے ہنرمند نوجوانوں کے لیے زبردست خوشخبری!
حکومت پنجاب نے ہنرمندوں کو بین الاقوامی مارکیٹ سے منسلک کرنے کے لیے بیرون ملک ملازمتوں کے نئے منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔
پہلے مرحلے میں سعودی عرب کے انرجی اور یوٹیلیٹیز سیکٹر میں شاندار مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اگر آپ بھی الیکٹریشن، ویلڈر، مکینک یا کسی تکنیکی ہنر سے وابستہ ہیں، تو یہ آپ کے لیے ایک سنہری موقع ہے!
لاہور (خصوصی رپورٹ): صوبہ پنجاب کے ہنرمند نوجوانوں کو بین الاقوامی سطح پر روزگار کے شاندار مواقع فراہم کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مقامی ٹیلنٹ کو عالمی مارکیٹ سے منسلک کرنے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل اور عالمی بھرتی پلیٹ فارم کے قیام کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔سرکاری حکام کے مطابق، اس حوالے سے ایک نجی کمپنی کی جانب سے کمرشل پروپوزل موصول ہوا ہے جس کے تحت روزگار کے حصول کے لیے ایک ہی پلیٹ فارم پر امیدواروں کی پروفائلنگ، تعلیمی اسناد اور مہارتوں کی ڈیجیٹل تصدیق (سکل ویریفکیشن) کا جامع نظام وضع کیا جائے گا۔منصوبے کے پہلے مرحلے میں سعودی عرب کے انرجی اور یوٹیلیٹیز سیکٹر کو رول آؤٹ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس ابتدائی مرحلے کے قیام کے لیے 8500 یورو کی یکمشت لاگت اور فی امیدوار 14 یورو فیس تجویز کی گئی ہے۔دوسرے مرحلے میں اس سہولت کو وسعت دے کر ایک مکمل 'انٹرنیشنل ٹیلنٹ موبلٹی پلیٹ فارم' کی شکل دی جائے گی۔ اس باقاعدہ اور مکمل پلیٹ فارم کے لیے 30 ہزار یورو کی ابتدائی (ون ٹائم) لاگت جبکہ 5 ہزار یورو ماہانہ اخراجات کی تجویز پیش کی گئی ہے۔اس جدید ترین پروپوزل میں تصدیق شدہ اسناد (ویریفائیڈ کریڈینشلز)، ٹیلنٹ پول، موبائل ایپلیکیشن اور بین الاقوامی کمپنیوں (ایمپلائرز) کے لیے ایک مخصوص پورٹل کی سہولیات شامل ہوں گی، جس سے بیرون ملک روزگار کے حصول کا عمل نہ صرف شفاف ہوگا بلکہ ہنرمند افراد کے لیے بے حد آسان ہو جائے گا
پنجاب میں میتوں کی بلامعاوضہ گھر منتقلی کی سروس کا افتتاح، مریم نواز نے ایمبولینسز کی چابیاں سونپ دیں
لاہور (خصوصی رپورٹ): وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری ہسپتالوں سے میتوں کو مکمل عزت و احترام کے ساتھ ان کے گھروں تک پہنچانے کے لیے مفت سروس کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت وزیر اعلیٰ نے خصوصی ایمبولینسز کا معائنہ کیا اور گاڑیوں کی چابیاں متعلقہ عملے کے حوالے کیں۔تفصیلات کے مطابق، "Deceased Care Service" کے نام سے شروع کی گئی یہ سہولت ابتدائی طور پر پنجاب کے تین بڑے شہروں—لاہور، راولپنڈی اور ملتان—کے سرکاری ہسپتالوں میں فراہم کی گئی ہے۔ تاہم، مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال جون تک اس سروس کا دائرہ کار بتدریج صوبے کی ہر تحصیل تک بڑھا دیا جائے گا۔افتتاحی تقریب کے موقع پر ریسکیو 1122 کے اہلکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ سوگوار خاندانوں کے دکھ میں شریک ہوں اور ان کی ہر ممکن مدد کریں۔ انہوں نے واضح ہدایات جاری کیں کہ میت کی منتقلی کے عوض کسی بھی اہلکار کو رقم وصول کرنے کی اجازت نہیں، اور اگر کوئی شہری رضاکارانہ طور پر بھی پیسے دینا چاہے تو سختی سے انکار کیا جائے۔ پرائیویٹ ٹرانسپورٹرز کی جانب سے میت کی منتقلی کے لیے من مانے کرائے وصول کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے، انہوں نے اس نئی سروس کو عوام کے لیے ایک بڑا ریلیف قرار دیا۔اس سہولت کو حاصل کرنے کے لیے شہری براہ راست 1122 پر کال کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، ہر سرکاری ہسپتال میں اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ڈیسک بھی قائم کیا جائے گا، جہاں 24 گھنٹے تربیت یافتہ عملہ ڈیوٹی سرانجام دے گا۔ وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں حکومت عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ سمارٹ ریسکیو مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے اس پوری سروس کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔
شناختی کارڈ کی تاخیر سے تجدید پر جرمانے کی تیاری، کروڑوں کارڈز ایکسپائر
2 کروڑ 74 لاکھ مقامی اور 23 لاکھ اوورسیز شناختی کارڈز زائد المیعاد (Expire) ہو چکے ہیں
شہریوں نے بروقت تجدید نہ کروائی تو آئندہ مالی سال سے اضافی فیس اور جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں، نادرا حکام
لاہور: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کی جانب سے شناختی دستاویزات کی بروقت تجدید نہ کروانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا نوٹس لیتے ہوئے، آئندہ مالی سال سے تجدید میں تاخیر پر جرمانے عائد کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔نادرا حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت ملک بھر میں 2 کروڑ 74 لاکھ سے زائد شناختی کارڈز زائد المیعاد (Expire) ہو چکے ہیں جن کی شہریوں نے تاحال تجدید نہیں کروائی۔ اسی طرح 23 لاکھ اوورسیز شناختی کارڈز اور لاکھوں بچوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹس (ب فارم) کی معیاد بھی ختم ہو چکی ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ نادرا ریکارڈ کے مطابق تقریباً 2 لاکھ شناختی کارڈز ایسے ہیں جن کی معیاد ختم ہوئے 10 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔حکام نے شہریوں کو سخت ہدایت کی ہے کہ ملکی قانون کے تحت شناختی کارڈ کی معیاد ختم ہونے سے قبل اس کی تجدید کروانا لازمی ہے۔ زائد المیعاد شناختی کارڈ کی صورت میں شہریوں کو بینکنگ کے معاملات، موبائل سروسز کے حصول، سرکاری سہولیات اور دیگر قانونی امور میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےنادرا کی جانب سے شہریوں کو ایس ایم ایس کے ذریعے مسلسل یاد دہانی بھی کروائی جا رہی ہے تاکہ وہ بروقت اپنی شناختی دستاویزات کی تجدید یقینی بنائیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر اس انتباہ کے باوجود صورتحال میں بہتری نہ آئی تو آئندہ مالی سال میں تاخیر سے تجدید کروانے والوں پر اضافی فیس اور بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
آج کا خصوصی کالم
خرم دستگیر خان کا شہر ن لیگی قلعہ یا سیاسی آبنائے ہرمز؟
کیا گوجرانوالہ کی سیاست میں موروثی اثر و رسوخ اب بھی قائم ہے یا نوجوان ووٹرز نے سیاسی رجحانات بدل دیے ہیں؟
سینئر کالم نگار محمد سجاد ڈار کے قلم سے خرم دستگیر خان کے سیاسی سفر، تعلیمی قابلیت، ماضی کی شاندار کامیابیوں اور موجودہ سیاسی چیلنجز پر ایک انتہائی گہرا اور جامع تجزیہ۔
ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان، ایران کو ٹیکس دینے والے جہازوں کو روکنے کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی سمندری حدود میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے آبنائے ہرمز کی فوری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کردہ ایک بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے ہیں جس کے بعد امریکی بحریہ کو حکم دے دیا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور وہاں سے گزرنے والے تمام جہازوں کی مکمل ناکہ بندی شروع کرے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو ٹول ٹیکس ادا کرنے والے جہازوں کو بھی روکا جائے گا کیونکہ یہ عمل عالمی سطح پر بھتہ خوری کے مترادف ہے اور امریکہ سمیت دیگر ممالک اب اسے مزید برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحریہ دنیا کی بہترین قوت ہے جو بین الاقوامی پانیوں میں غیر قانونی طور پر ٹول وصول کرنے والے جہازوں کا راستہ روکے گی تاکہ سمندری راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
وزیراعلیٰ پنجاب کا سیوریج منصوبوں پر 24 گھنٹے کام جاری رکھنے کا حکم
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے 15 بڑے شہروں میں نکاسی آب اور سیوریج کے جاری منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔ انہوں نے حکم دیا ہے کہ شہریوں کی سہولت کے لیے ان منصوبوں پر 24 گھنٹے کام جاری رکھا جائے اور مون سون کے آغاز سے قبل سیوریج لائنوں کی صفائی اور مرمت کا کام ہر صورت مکمل کیا جائے۔ اس سلسلے میں شفافیت اور کام کی رفتار کو جانچنے کے لیے ریئل ٹائم مانیٹرنگ ڈیش بورڈ اور موبائل ایپ بھی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے واسا کمپلیکس کے ڈیزائن کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ نکاسی آب کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ بارشوں کے دوران عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان منصوبوں کے تحت صوبے بھر میں ہزاروں کلومیٹر طویل سیوریج لائنوں کی بحالی اور نئے ڈسپوزل اسٹیشنز کی تعمیر پر کام تیز کر دیا گیا ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
اوقاتِ کار کی خلاف ورزی پر ضلعی انتظامیہ کا کریک ڈاؤن، متعدد دکانیں اور شادی ہالز سیل
لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے وزیراعلیٰ پنجاب کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں اوقاتِ کار کی پابندی نہ کرنے والوں کے خلاف بڑا آپریشن کیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنرز نے راوی، نشتر، اقبال ٹاؤن اور رائے ونڈ کے علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 66 دکانیں، دفاتر اور شادی ہالز سیل کر دیے۔ اے سی راوی حمیرہ شاہ نے 1324 انسپکشنز کے دوران 33 دکانیں سیل کیں اور تین افراد کو گرفتار بھی کروایا، جبکہ اے سی نشتر محمد سلیم آسی نے 19 اور اے سی اقبال ٹاؤن طارق شبیر نے 14 دکانیں اوقات کی خلاف ورزی پر بند کیں۔ اسی طرح اے سی رائے ونڈ زہیب ممتاز نے مختلف مارکیٹوں اور شادی ہالز کا معائنہ کیا جہاں خلاف ورزی پائے جانے پر دکانیں اور دفاتر سیل کیے گئے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام مارکیٹوں، ریسٹورنٹس اور شادی ہالز میں مقررہ وقت پر بندش کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
وزیراعلیٰ مریم نواز کا کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان، ڈی جی اینٹی کرپشن کو اہم ٹاسک تفویض
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لیے سخت ترین اقدامات کا فیصلہ کرتے ہوئے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو بلاامتیاز کارروائیوں کا حکم دے دیا ہے۔ ڈی جی اینٹی کرپشن کو خصوصی ٹاسک سونپتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی سطح پر کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی، چاہے وہ سرکاری افسران ہوں یا نجی اداروں کے ملازمین، بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور سخت ایکشن لیا جائے گا۔ حکومت نے بدعنوان افراد کو نشانِ عبرت بنانے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کر لی ہے جس کے تحت کرپشن کیسز کے جلد فیصلوں کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ معاشرے سے اس ناسور کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کرپشن کے خلاف کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور جرم ثابت ہونے پر ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں گی۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
سموسے کھاتے ہوئے مذاق پر جھگڑا، چھریوں کے وار سے ایک بھائی قتل جبکہ دوسرا زخمی
لاہور کے علاقے شفیق آباد میں سموسے کھاتے ہوئے معمولی تلخ کلامی نے خونی تصادم کی شکل اختیار کر لی، جہاں ملزم وکیل نے اپنے ساتھیوں طیب، رمضان اور وسیم کے ساتھ مل کر دو بھائیوں پر چھریوں سے حملہ کر دیا۔ حملے کے نتیجے میں زنیر نامی نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا جبکہ اس کا بھائی ایزن شاہ شدید زخمی ہو گیا جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی شفیق آباد پولیس نے 15 کی کال پر فوری ریسپانس دیا اور جدید ٹیکنالوجی و ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے فرار ہونے والے مرکزی ملزم وکیل کو مرید کے سے گرفتار کر لیا۔ پولیس نے ملزم سمیت مجموعی طور پر 4 افراد کو حراست میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ مقتول کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
5 ہزار سے زائد غیر فعال واٹر فلٹریشن پلانٹس کو 30 جون تک فعال کرنے کی حتمی ڈیڈ لائن مقرر
کام کے معیار، میرٹ اور مقررہ وقت پر زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائی جائے گی اور کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ کمپلینٹ سنٹرز قائم کیے جائیں گے۔
پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے بجٹ میں اضافے کی تجویز
خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے 'سائبر کرائم یونٹ' قائم کرنے کی منظوری
سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے والوں کی خیر نہیں! سخت قانون سازی
خواتین اور بچوں کا تحفظ یقینی: اب شکایت کے لیے تھانے جانے کی ضرورت نہیں!
موبائل یونٹس خود متاثرہ افراد تک پہنچیں گے اور ان کی شناخت مکمل خفیہ رکھی جائے گی۔
اب گھر بیٹھے گمشدہ دستاویزات کی رپورٹ درج کروائیں!
پنجاب حکومت کا عوام کے لیے ایک اور بڑا قدم۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے "پنجاب پولیس ایپ" متعارف کروا دی ہے۔ اب شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا ڈرائیونگ لائسنس گم ہونے پر تھانوں یا خدمت مراکز کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں۔
✅ ایپ کے ذریعے آن لائن شکایت درج کریں ✅ ایف آئی آر (FIR) کی کاپی بھی گھر بیٹھے حاصل کریں ✅ وقت اور پیسے کی بچت
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: مقدمات کے سائلین کے لیے بڑی سہولت!
عدالتی نظام میں شفافیت اور سائلین کی آسانی کے لیے لاہور ہائیکورٹ نے اہم ترین احکامات جاری کر دیے۔ اب نئے مقدمات کے اندراج، جوابِ دعویٰ اور ضمانتی مچلکوں کے لیے بایومیٹرک تصدیق کی قانونی مدت 48 گھنٹوں سے بڑھا کر 3 دن (72 گھنٹے) کر دی گئی
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
موٹر سائیکل سواروں کے لیے بڑی خوشخبری! رجسٹریشن اور سمارٹ کارڈ فیس معاف!
🔴 وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا موٹر سائیکل سواروں کے لیے زبردست ریلیف پیکیج کا اعلان۔ 🔴 بائیک ٹرانسفر پر 605 روپے کی چھوٹ، جبکہ رجسٹریشن اور سمارٹ کارڈ کی مد میں 2300 روپے بھی وصول نہیں کیے جائیں گے۔ 🔴 شہری 6 اپریل سے 5 مئی 2026 تک اس شاندار سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ 🔴 اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے موٹر سائیکل کا متعلقہ مالک کے نام پر باقاعدہ رجسٹرڈ ہونا اور ملکیت کا قانونی ثبوت موجود ہونا لازمی ہے۔ 🔴 یاد رہے کہ یہ شاندار رعایت لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس پر لاگو نہیں ہوگی، اس کا اطلاق صرف ٹرانسفر، رجسٹریشن اور سمارٹ کارڈ فیسوں پر ہوگا۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
🔴اے آئی کیمروں سے جعلی نمبر پلیٹس کے خلاف گھیرا تنگ!
ورچوئل پٹرولنگ ٹیموں نے ایک ہی ہفتے میں 52 سے زائد مشکوک گاڑیاں دھر لیں۔
جعلی نمبر پلیٹ کے استعمال پر اب سیدھی ایف آئی آر (FIR) کٹے گی!
قانون کا احترام کریں اور کسی بھی قانونی کارروائی سے بچیں۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور میں ہزار ایکڑ پر انڈسٹریل اسٹیٹ اور سولر فیکٹریز کے قیام کا بڑا فیصلہ!
چینی کمپنیوں کا 50 ہزار پاکستانی طلبہ کو ٹریننگ دینے کا اعلان۔
لاہور میں سولر پینلز کی مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ شروع کرنے پر باضابطہ اتفاق۔
صوبے میں روزگار کے 18 ہزار نئے اور شاندار مواقع پیدا ہوں گے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
ایل پی جی قیمتیں کنٹرول پیرا فورس کے حوالے!
پبلک ٹرانسپورٹ سے محروم 17 اضلاع میں مفت ٹرانسپورٹ کی فراہمی کا آغاز۔
مہنگائی اور کھلے جوہڑوں پر وزیر اعلیٰ کا سخت نوٹس، کوتاہی پر متعلقہ ڈپٹی کمشنر ذمہ دار ہوگا!
شہروں کی بیوٹی فکیشن، قبرستانوں کی صفائی اور آوارہ کتوں کے تدارک کے لیے فوری اقدامات اور ڈیڈ لائن مقرر۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
🚨 ملک بھر میں رات 8 بجے شٹر ڈاؤن، تاجر برادری پریشان!
حکومتی فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ!
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
مہنگائی سے پریشان عوام کوریلیف دینے کے لیے مختلف سبسڈی ماڈلز پر مبنی جامع منصوبہ تیار ۔
🛍️ سہولت بازار: اشیاء ضروریہ پر 10 فیصد تک رعایت دینے کی تجویز۔
🚚 ٹمنڈیوں کے رجسٹرڈ بیوپاریوں اور مال بردار ٹرانسپورٹرز کو سبسڈی فراہم کرنے پر غور۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
محکمہ آبپاشی میں کرپشن کا بڑا انکشاف! بوگس بھرتیوں کی تحقیقات کا حکم
سابقہ دور حکومت میں محکمہ آبپاشی پنجاب میں گھوسٹ ملازمین اور مالی بے ضابطگیوں نے قومی خزانے کو 8 کروڑ 70 لاکھ روپے کا بھاری نقصان پہنچایا۔
"ہمیں سڑک دیں!" – ڈھوک مرزا بابا کے مکینوں کی دہائی
عید ہو یا عام دن، بارش ہوتے ہی یہ راستہ کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ یونین کونسل گولڑہ کے رہائشی فیصل اعوان اور دیگر اہل علاقہ کی حکام بالا سے فوری عملی اقدامات کی اپیل۔
کروڑوں روپے ٹیکس وصولی کے باوجود بنیادی سہولیات کہاں ہیں؟
ڈھوک مرزا بابا (گولڑہ) کی سڑک کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگی۔ بارش ہوتے ہی مریضوں کا اسپتال جانا اور طلباء کا اسکول جانا محال ہو جاتا ہے۔ کیا متعلقہ حکام عوامی مشکلات کا ازالہ کریں گے؟
بارش کے باعث سڑک کی خراب صورتحال نے زندگی اجیرن کر دی۔ اہل علاقہ نے ایم این اے شیخ آفتاب احمد اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس دیرینہ مسئلے کو فی الفور حل کیا جائے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
لاہور میں سولر سسٹم نے بجلی کے نظام کا رخ موڑ دیا!
پاکستان میں شمسی توانائی کے انقلاب نے روایتی بجلی کے نظام کو حیران کر دیا۔ نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کے مطابق، لیسکو (LESCO) کے نیٹ ورک پر بجلی کی طلب میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی وجہ سے سسٹم میں 300 میگا واٹ بجلی زائد (Surplus) موجود ہے۔
پبلک ٹرانسپورٹ میں عوام کے لیے مفت سفر کا اعلان۔
⛽ موٹر سائیکل سواروں کو 20 لیٹر تک پیٹرول پر اور کسانوں کو ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر کی رعایت۔
🚚 مال بردار گاڑیوں کے لیے 70 ہزار اور بڑی بسوں کے لیے 1 لاکھ روپے کی سبسڈی۔
وزیر اعلیٰ کی معاشی حالات بہتر ہونے تک عوام سے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی اپیل۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان۔
آج سے پورے ملک میں پیٹرول 378 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔
ریلوے کی کسی بھی کلاس کے کرائے میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
مہنگائی کا ایک اور جھٹکا: گڈز ٹرانسپورٹ اور رکشہ کرایوں میں بڑا اضافہ!
مال برداری کے کرایوں میں 40 فیصد اضافے کا اعلان۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گرا دیا گیا۔ پیٹرولیم قیمتوں میں تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ!
موٹر سائیکل سواروں، بسوں اور گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے 'ٹارگٹڈ سبسڈی' کا اعلان۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
ای چالان نادہندگان ہوشیار! سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ
ون ایپ (One App) سے وصولی کا آغاز کر دیا گیا
شہریوں کے لیے الرٹ: فوری طور پر اپنے زیر التوا ای چالان جمع کروائیں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
قدیم درخت کاٹنا اب سنگین جرم قرار! کسی بھی پرانے درخت کو کاٹنے پر ایک سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا ہو سکتی ہے۔ 🌳
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
"میرا وقت ابھی ختم نہیں ہوا، لوگ میرے لنگر سے حسد کرتے ہیں!" اداکارہ ریشم بالاخر پھٹ پڑیں!
معروف پاکستانی اداکارہ ریشم کا نام لیے بغیر اپنے ناقدین کو کرارا اور منہ توڑ جواب!
اداکارہ دیدار کی جانب سے لگائے گئے سنگین الزامات کے بعد ریشم کی خاموشی ٹوٹ گئی۔
"مجھ پر تنقید کرنے والوں کی اپنی پہچان کیا ہے؟" ریشم کا ناقدین پر سخت جوابی وار۔ اداکارہ کا کہنا ہے کہ لوگ ان کے فلاحی کاموں (لنگر) سے جلتے ہیں کیونکہ وہ خود ایسا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات پاکستان پہنچ گئے!
پاکستان میں مہنگائی 19 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی!
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
عوام پر مہنگائی کا نیا طوفان لانے کی تیاریاں
آئی ایم ایف کے نئے مطالبات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی! تیل اور سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا قوی خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
دہشتگردی اور سائبر کرائمز کے خاتمے کے لیے پنجاب کا پہلا انٹیلی جنس فیوژن سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
زمین کے مقدمات اب سالوں نہیں، مہینوں میں حل ہوں گے
نیا قانون منظور۔برسوں سے چلنے والے تنازعات کا فوری فیصلہ ہوگا۔
اراضی مقدمات نمٹانے کی زیادہ سے زیادہ مدت 150 دن کر دی گئی۔
فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا وقت اب صرف 30 دن ہوگا۔
زمین کی خرید و فروخت اور حقوق کی منتقلی کا نظام اب مکمل ڈیجیٹل ہوگا
📱 تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
🚨 عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم!ایل پی جی فی کلو 78 روپے مہنگی ۔
🔸 نئی فی کلو قیمت 304 روپے مقرر
🔸 11.8 کلوگرام کا گھریلو سلنڈر 923 روپے مہنگا ہو کر 3588 روپے کا ہو گیا
🔸 اوپن مارکیٹ میں سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی جاری، گیس 400 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگی!
📱 تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر دوسروں کی جھوٹی چمک دمک دیکھ کر احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں۔
📱 تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
چھٹیاں ختم! یکم اپریل سےسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں معمول کے مطابق کھل جائیں گی
آن لائن اور ہائبرڈ تعلیمی نظام مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
میٹرک امتحانات کو شفاف بنانے کے لیے بائیو میٹرک اور کیو آر (QR) کوڈ سسٹم نافذ
امتحانی مراکز کی سی سی ٹی وی کیمروں سے مسلسل مانیٹرنگ جاری
تازہ ترین اپ ڈیٹس بروقت حاصل کرنے کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں:
📱 تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
تاجر برادری نے ممکنہ لاک ڈاؤن مسترد کر دیا!
رات 10 بجے دکانیں بند کرنے کا حکم فوری منسوخ کیا جائے۔
ویک اینڈ (ہفتہ اور اتوار) پر کاروباری بندش سے معاشی نقصان ہوگا، اس سے گریز کیا جائے۔
ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں:
پنجاب میں دل کے مریضوں کا مفت علاج اور اوپن ہارٹ سرجری کا آغاز
تازہ ترین اپ ڈیٹس بروقت حاصل کرنے کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں:
حکومت کا رجسٹرڈ موٹرسائیکل اور رکشہ سواروں کو سستا پٹرول فراہم کرنے کا فیصلہ۔
کفایت شعاری مہم: وزیراعظم کی عوام کو ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری مہم کا حصہ بننے کی خصوصی اپیل۔
ٹیلی کانفرنسنگ پر زور: دفاتر اور کام کی جگہوں پر غیر ضروری سفر سے بچنے اور اخراجات کم کرنے کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ (آن لائن میٹنگز) کو ترجیح دینے کی ہدایت۔
ہر خبر سے باخبر رہنے کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
روزنامہ قومی کردار, گوجرانوالہ / لاہور
March 29, 2026
زیراعلیٰ پنجاب مفت سولر پینل اسکیم آن لائن رجسٹریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ عوام کو مہنگی بجلی سے ریلیف دیا جا سکے۔
یہ اسکیم حکومت پنجاب کی جانب سے شروع کی گئی ہے جس کا مقصد غریب اور متوسط طبقے کو سہولت دینا ہے۔
اسکیم کیا ہے؟
یہ ایک فلاحی منصوبہ ہے جس کے تحت ایک لاکھ گھروں کو مفت سولر سسٹم فراہم کیے جائیں گے۔
اس کا مقصد صاف توانائی کو فروغ دینا اور بجلی کے اخراجات کم کرنا ہے۔
وہ صارفین جو ماہانہ 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرتے ہیں، اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
آن لائن رجسٹریشن کا طریقہ
درخواست دینے کے لیے سرکاری ویب سائٹ وزٹ کریں:
https://cmsolarscheme.punjab.gov.pk/
یا ایس ایم ایس کے ذریعے بھی رجسٹریشن کی جا سکتی ہے۔
اپنا ریفرنس نمبر اور شناختی کارڈ نمبر 8800 پر بھیجیں۔
اہلیت کا معیار
پنجاب کا رہائشی ہونا ضروری ہے
بجلی کا استعمال 200 یونٹس تک ہو
لوڈ 2 کلو واٹ سے زیادہ نہ ہو
درست شناختی کارڈ ہونا ضروری ہے
نااہل افراد
بجلی چوری میں ملوث افراد
خراب میٹر رکھنے والے صارفین
ایک سے زیادہ میٹر والے گھرانے
بل ادا نہ کرنے والے افراد
درخواست دینے کا طریقہ
ویب سائٹ کھولیں
ریفرنس نمبر درج کریں
شناختی کارڈ نمبر شامل کریں
معلومات مکمل کریں
درخواست جمع کروائیں
درخواست کے بعد معلومات کی تصدیق کی جائے گی۔
انتخاب کا طریقہ
درخواست گزاروں کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائے گا۔
صرف اہل افراد کو سولر سسٹم دیا جائے گا۔
فوائد
مفت سولر پینل
بجلی کے بل میں کمی
لوڈشیڈنگ میں سہولت
ماحول دوست توانائی
آخری تاریخ
رجسٹریشن کی آخری تاریخ 5 جنوری 2025 بتائی گئی تھی۔
مزید اپڈیٹس کے لیے سرکاری ویب سائٹ چیک کرتے رہیں۔
نتیجہ
یہ اسکیم عوام کے لیے بڑا ریلیف ہے۔
اس سے نہ صرف بجلی کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ صاف توانائی کو بھی فروغ ملے گا۔
"ریشم نے کئی گھروں اور زندگیوں کو تباہ کیا" — اداکارہ دیدار کا حیران کن دعویٰ!
👇 تازہ ترین خبریں اپنے واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ہمارا چینل جوائن کریں: 📱
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں:
پٹرول کی راشن بندی قریب!
محکمہ ایکسائز نے کروڑوں گاڑیوں کا ریکارڈ طلب کر لیا۔
"فیول پاس ایپ" کے ذریعے پٹرول کی فراہمی کنٹرول کرنے کی تیاری۔
تازہ ترین خبریں اپنے واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ہمارا چینل جوائن کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7kL7wKLaHvQtieRD2B
ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں:
ڈرگ مافیا کی کھلی لوٹ مار اور ظلم کی انتہا!
عالمی حالات کی آڑ میں غریب کی زندگی کو داؤ پر لگا دیا گیا!
ادویات کی قیمتوں میں سو فیصد سے زائد ہوشربا اضافہ غریب مریضوں کے لیے "موت کا پروانہ"
کیا حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہے؟
آواز اٹھائیے اور حق سچ کی اس خبر کو زیادہ سے زیادہ شیئر (Share) کیجیے!
پنجاب پولیس میں نوکریوں کے شاندار مواقع!
سی ٹی ڈی (CTD) میں 1000 نئی بھرتیوں کی منظوری
✅ فورس کی جدید ترین تربیت کے لیے پاک فوج کے ریٹائرڈ ایس ایس جی (SSG) کمانڈوز کو بطور انسٹرکٹر تعینات کیا جائے گا۔
✅ نئی بھرتیوں میں SP، DSP، انسپکٹر، سب انسپکٹر، ہیڈ کانسٹیبل اور ڈرائیور کانسٹیبل کی سینکڑوں اسامیاں شامل ہیں۔
پنجاب کے کسانوں، مزدوروں اور کم آمدنی والے افراد کے لیے خوشخبری!
پنجاب میں پہلی سرکاری لائف انشورنس کمپنی کا قیام عمل میں آ گیا ہے۔ SECP کی جانب سے باقاعدہ لائسنس جاری ہونے کے بعد اب ملک میں لائف انشورنس کمپنیوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔
غریب اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے خصوصی انشورنس۔
چھوٹے کاروباری افراد کے لیے سوشل ہیلتھ اور لائف انشورنس کی سہولیات۔
آسان ڈیجیٹل انشورنس اور سبسڈائزڈ پریمیم اسکیمیں متعارف۔
پنشن اور اینیوٹی (Annuity) پروڈکٹس تک عام آدمی کی رسائی۔
ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں: www.dailyqaumikirdar.com.p
روزنامہ "قومی کردار" کی ڈیجیٹل ویب سائٹ کا باقاعدہ آغاز
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے روزنامہ "قومی کردار" اب باقاعدہ طور پر ڈیجیٹل دنیا میں قدم رکھ رہا ہے۔ پرنٹ میڈیا کے کامیاب سفر کے بعد، اب ہماری ویب سائٹ کا مقصد قارئین تک حقائق پر مبنی، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ پہنچانا ہے۔ سچائی اور قوم کی آواز بننے کے اس نئے سفر میں آپ کی دعائیں اور ساتھ ہمارے لیے باعثِ افتخار ہوگا۔
چیف ایڈیٹر: محمد اشرف بٹ
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث پاکستان سے 46 پروازیں منسوخ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے آج بھی پاکستان کے مختلف شہروں سے کئی پروازیں متاثر ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق آج 46 پروازیں منسوخ کی گئی ہیں جبکہ متعدد دیگر پروازیں تاخیر کا شکار رہیں۔
کراچی سے پروازیں:
کراچی سے بحرین، نجف، دوحہ، مسقط، ابوظبی اور دبئی کے لیے 15 پروازیں منسوخ ہوئیں۔ اندرونِ ملک تربت، گوادر، اسلام آباد اور لاہور کے لیے 9 پروازیں منسوخ کی گئیں۔ علاوہ ازیں، جدہ، شارجہ، دبئی، مدینہ اور استنبول کے لیے 13 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔
لاہور، اسلام آباد، پشاور اور ملتان سے پروازیں: لاہور سے دبئی، دوحہ، دمام، جدہ اور ابوظبی کے لیے 9 پروازیں منسوخ کی گئیں۔
اسلام آباد سے کویت، القسیم، ریاض، بحرین اور دمام کی 10 پروازیں منسوخ ہوئیں جبکہ ریاض، ابوظبی، دمام، استنبول، مانچسٹر اور العین کے لیے 12 پروازیں تاخیر کا شکار رہیں۔
پشاور سے دوحہ، ابوظبی، دبئی اور شارجہ کی 10 پروازیں منسوخ ہوئیں۔ ملتان سے دبئی کے لیے 2 نجی ایئر لائن پروازیں منسوخ ہو گئیں۔
ذرائع کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور فضائی سیکیورٹی کے خدشات کے باعث فلائٹ آپریشنز متاثر ہو رہے ہیں، اور مسافروں کو سفر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
خلیجی ممالک کو اشیائے خوردونوش کی فراہمی تیز کرنے کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں خلیجی ممالک کو اشیائے خوردونوش کی فراہمی کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان کی بندرگاہوں اور سمندری آپریشنز پر بریفنگ دی گئی، جس پر وزیراعظم نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو مزید فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے برآمدات کے عمل کو تیز کیا جائے اور تمام ادارے مکمل تیاری کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں دوست ممالک کی ضروریات پوری کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ برآمدات کے لیے 40 مختلف اشیائے خوردونوش کی منظوری دی جا چکی ہے، جن میں چاول، چینی، خوردنی تیل، گوشت، پولٹری، ڈیری مصنوعات، خشک دودھ، پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔ برآمد کنندگان کا ایک جامع ڈیٹا بیس بھی تیار کر لیا گیا ہے تاکہ عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی برآمد پر کوئی اضافی چارجز عائد نہیں کیے جائیں گے، جبکہ فضائی اور بحری راستوں کے ذریعے ترسیل کو یقینی بنایا جائے گا۔ خلیجی ممالک کے ساتھ کاروباری روابط بڑھانے کے لیے بزنس ٹو بزنس اجلاس اور ویبینارز بھی جاری ہیں۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ کراچی اور بن قاسم کی بندرگاہیں عیدالفطر کے دوران بھی فعال رہیں اور نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں کمی کی گئی ہے، جبکہ برآمدات کو سہل بنانے کے لیے خصوصی سہولت مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ملک میں اشیائے خوردونوش کی طلب و رسد پر کڑی نظر رکھی جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذمہ داری میں کوتاہی برتنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ خام تیل لے کر آنے والے جہازوں کو بندرگاہوں پر ترجیحی بنیادوں پر سہولت دی جا رہی ہے، جبکہ وزیراعظم نے کراچی، گوادر اور دیگر بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر پروازوں کی تعداد بڑھانے کے لیے بھی منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت کی
لاہور میں میٹرک کے سالانہ امتحانات کے دوران 14 امتحانی سنٹرز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ان سنٹرز میں گورنمنٹ این ڈی اسلامیہ ہائی سکول اچھرہ، گورنمنٹ ہائی سکول برکی، گورنمنٹ سائنس کالج برکی، گورنمنٹ ہائی سکول اطوکی اعوان، گورنمنٹ ہائی سکول جلوموڑ، چونگ جبکہ مراکہ کوارٹر اور شیرشاہ کالونی شامل ہیں۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ قصورکے 4، شیخوپورہ کے 7 جبکہ ننکانہ صاحب کا بھی ایک سنٹرحساس قرار دیا گیا ہے۔
امتحانات کا آغاز 27 مارچ سے ہوگا، جس میں پہلا پرچہ عربی، کمرشل جغرافیہ اور تاریخ لیا جائے گا۔
میٹرک کے امتحانات میں تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار امیدوار شرکت کریں گے جبکہ 880 امتحانی مراکز تشکیل دیئے گئے ہیں۔
26 مراکز کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کی جائے گی۔ تمام سنٹرز میں دفعہ 144 نافذ ہوگی اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ امیدواروں کو صرف شناخت کے بعد امتحانی سنٹرز میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔
میٹرک کا آخری پیپر 16 اپریل کو پنجابی اور تاریخ اسلام کا ہوگا، جبکہ نہم جماعت کے امتحانات 17 اپریل سے شروع ہوں گے۔
صدر ٹرمپ چاہتے ہیں ایران سے تنازع 4 سے 6 ہفتوں میں ختم ہو جائے: امریکی میڈیا
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے جلد اختتام پر زور دے رہے ہیں اور ایران کے ساتھ جاری تنازع کو چار سے چھ ہفتوں کے اندر حل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں سے کہا ہے کہ وہ اس جنگ کو طویل نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ ان کے نزدیک یہ تنازع اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس نے مئی میں بیجنگ سمٹ کو اس بنیاد پر رکھا کہ اس سے پہلے جنگ ختم ہو جائے گی۔ تاہم صدر ٹرمپ کی توجہ بعض اوقات دیگر سیاسی امور، جیسے وسط مدتی انتخابات اور امیگریشن اقدامات کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ قریبی مشیروں کا کہنا ہے کہ صدر اگلے بڑے چیلنج کی طرف بڑھنے کے لیے بے تاب ہیں، اور بعض اتحادی امید رکھتے ہیں کہ وہ کیوبا کی کمیونسٹ حکومت کے خاتمے پر بھی توجہ دیں گے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکا مذاکرات کے لیے تیار ہے، مگر ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں اضافی فوج بھیج رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی تیل تک رسائی کو ممکنہ شرط کے طور پر زیر غور رکھا ہے، تاہم فی الحال اس پر کوئی عملی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ امن مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، اور فی الحال کوئی واضح فوجی فتح یا معاہدہ موجود نہیں، جس سے امریکا کو آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے لیے ایک تجاویز کا پیکیج تیار کیا ہے جس میں شرط رکھی گئی ہے کہ اگر ایران تمام افزودہ یورینیئم ختم کرے اور امریکا کے مطالبات تسلیم کرے تو پابندیوں میں نرمی کی جا سکتی ہے۔ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر سخت پابندیاں برقرار رہیں گی اور امریکا چاہتا ہے کہ ایران حزب اللہ، حوثیوں اور حماس سمیت تمام مسلح گروپوں کی حمایت بند کرے۔ امریکی اہلکاروں کے مطابق یہ تجاویز حساس نوعیت کی ہیں، اس لیے تفصیلات باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کی جا رہی۔
اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ایرانی میڈیا رپورٹ کو غلط قرار دیا جس میں کہا گیا کہ ایران نے امریکا کی تجویز مسترد کر دی۔ امریکا کا کہنا ہے کہ بات چیت جاری ہے اور کسی نتیجے کا اعلان قبل از وقت ہوگا۔
مزید یہ کہ امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش حقیقت کے قریب ہے اور ایران نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔
پنجاب میں بلڈ بینکس کی کڑی نگرانی کا فیصلہ
، ویجیلنس ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی! محفوظ انتقالِ خون کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے پنجاب حکومت متحرک ہو گئی۔ تھیلیسیمیا کی روک تھام کے لیے بھی لاکھوں افراد کی سکریننگ کا عمل جاری
خبر کو شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان حفاظتی اقدامات سے آگاہ ہو سکیں۔
روزنامہ قومی کردار - سچ کی آواز