پنجاب سے غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ کا عالمی نیٹ ورک بے نقاب، 2 مرکزی ایجنٹ گرفتار
اسلام آباد (قومی کردار نیوز) ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ملک بھر میں غیر قانونی انسانی گردہ ٹرانسپلانٹ کرنے والے انتہائی منظم نیٹ ورک کے دو اہم اور مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے کی اس کارروائی کے بعد ہونے والی تحقیقات میں انتہائی لرزہ خیز اور ہولناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے مقدمہ نمبر 16/2026 کے تحت مطلوب مرکزی ایجنٹ شبیر حسین کو جلال پور بھٹیاں، ضلع حافظ آباد سے گرفتار کیا۔ جبکہ اس کے قریبی ساتھی اور مبینہ سب ایجنٹ غلام عباس کو چک نمبر L-326/15، تحصیل میاں چنوں، ضلع خانیوال سے حراست میں لیا گیا ہے۔غریب اور دیہاڑی دار طبقہ نشانہ:دونوں ملزمان پر الزام ہے کہ وہ مالی طور پر انتہائی کمزور، نادار اور مستحق افراد کو معمولی معاوضے کا لالچ دے کر غیر قانونی انسانی گردہ ٹرانسپلانٹ نیٹ ورک کے لیے ڈونرز کا انتظام کرتے تھے۔ ملزمان کا نشانہ خصوصاً بھٹہ مزدور، دیہاڑی دار، غریب خاندان اور دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے شہری ہوتے تھے، جنہیں معاشی تنگ دستی کا فائدہ اٹھا کر اعضاء کا عطیہ دینے پر آمادہ کیا جاتا تھا۔کروڑوں روپے کی وصولی اور غریبوں کا استحصال:تحقیقات کے دوران یہ چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی ہے کہ یہ منظم نیٹ ورک امیر مریضوں سے ہر گردہ ٹرانسپلانٹ کے عوض 60 لاکھ روپے سے لے کر بعض کیسز میں 1 کروڑ روپے تک کی خطیر رقم وصول کرتا تھا۔ اس کے برعکس، اپنی زندگی داؤ پر لگانے والے غریب ڈونر کو محض چند لاکھ روپے دیے جاتے تھے، جبکہ باقی بھاری رقم نیٹ ورک کے مختلف ارکان اور ایجنٹس میں تقسیم کر دی جاتی تھی۔187 غیر قانونی آپریشنز کا انکشاف:ابتدائی تفتیش کے مطابق، گرفتار مرکزی ایجنٹ شبیر حسین اپنے ماتحت سب ایجنٹس کے ذریعے پنجاب اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں سے اب تک 50 سے زائد غریب ڈونرز مبینہ طور پر ڈاکٹر نادر کو فراہم کر چکا تھا۔ واضح رہے کہ ایف آئی اے اس سے قبل اسی مقدمے میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر نادر اور ان کی ٹیم کو گرفتار کر چکی ہے۔ ایف آئی اے کی جاری تحقیقات کے مطابق اب تک حاصل ہونے والے شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر نادر مبینہ طور پر تقریباً 187 غیر قانونی انسانی گردہ ٹرانسپلانٹس میں ملوث رہا ہے، جس کے مختلف پہلوؤں پر مزید تفتیش تیزی سے جاری ہے۔